Urdu book · دین و شریعت

دینی مدارس کا امتیاز

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

۶۔ غیر دینی درسگاہوں میں جو فلسفۂ حیات رائج ہے، اس کے مطابق، انسان ایک متلاشی مسرت حیوان (pleasure-seeking animal) ہے۔ اس فلسفہ کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ انسان لذت اور مسرت کے حصول کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنالے۔ چنانچہ آج غیر دینی درسگاہوں کے تعلیم پائے ہوئے تمام لوگ اسی واحد مقصد کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ غیر دینی درسگاہوں میں تربیت پائے ہوئے لوگوں کا حال ہر جگہ یہی ہے، خواہ وہ ہندوستان کے لوگ ہوں یا بیرونِ ہندوستان کے لوگ۔ اس نظریہ کا عملی تجربہ بتاتا ہے کہ وہ ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ اس ذہن کے لوگ اپنی ساری عمر ان چیزوں کے حصول میں لگادیتے ہیں جن کو وہ بظاہر خوشی و لذت کا ذریعہ سمجھتے ہیں مگر جب ہزار کوشش کے بعد وہ ان مطلوب چیزوں کا ڈھیر اکٹھا کر لیتے ہیں تو اچانک ان کو معلوم ہو تا ہے کہ یہ چیزیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں، وہ انھیں لذت ومسرت دینے والی نہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے لامحدود استعداد (unlimited capacity) کا مالک ہے۔ جب کہ دنیا کی ہر چیز صرف محدود خوشی اور محدود لذت ہی دے سکتی ہے۔ گویا انسان اپنی طلب کے اعتبار سے کامل تسکین چاہتا ہے جب کہ مادی چیزیں اپنی محدودیت کی بنا پر اس کو جزئی تسکین ہی دے سکتی ہیں۔ اسی فرق کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو اکتاہٹ (boredom) کہا جاتا ہے۔ طالب اور مطلوب کے در میان یہ فرق اتنا زیادہ حتمی ہے کہ کسی بادشاہ کے لئے بھی اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں مادی سازو سامان کی بے پناہ کثرت ہے مگر ان سامانور نے انسان کو جو چیز دی ہے وہ صرف مایوسی (frustration) ہے نہ کہ تسکین، جس کو حاصل کرنے کے لئے یہ مادی ساز و سامان فراہم کیا گیا تھا۔ دینی مدرسہ میں تعلیم و تربیت پائے ہوئے انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ ایسے لوگ جس فلسفۂ حیات کا سبق لے کر اپنی مادر علمی سے نکلتے ہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لئے ہے نہ کہ حصول مسرت کے لئے۔ یہ نقطۂ نظر ان کے رویہ کو یکسر بدل دیتا ہے۔ وہ دنیا کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page