Urdu book · دین و شریعت

دینی مدارس کا امتیاز

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیابی کے بجائے آخرت کی کامیابی کو اپنی منزل بناتے ہیں۔ دنیا میں عیش ڈھونڈنے کے بجائے آخرت میں جنت کا حصول ان کا نشانہ بن جاتا ہے۔ سوچ کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دینی مدارس میں تعلیم پائے ہوئے لوگ تعیش (luxury) کے بجائے ضرورت کو اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں۔ وہ فراوانی (abundance) کے بجائے قناعت کے اصول پر راضی رہتے ہیں۔ کل کی خوشی کا احساس ان کے لئے آج کے غم کو ہلکا کر دیتا ہے۔ وہ کبھی مایوسی سے دوچار نہیں ہوتے، کیوں کہ جو کچھ انھیں موجودہ دنیا میں ملتا ہے اسی کو وہ اپنے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ ان کا سینہ حرص اور حسد جیسے منفی احساسات سے پاک ہوتا ہے۔ کیوں کہ حرص اور حسد جیسے احساسات مادی کمی کی زمین پر ابھرتے ہیں، اور دینی تعلیم کے تربیت یافتہ لوگ اپنے غیر مادی ذہن کی بنا پر اس کمزوری سے پیشگی طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ چند مثالیں بتاتی ہیں کہ دینی مدارس اور غیر دینی مدارس میں کتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ دینی مدارس حقیقی علم پر قائم ہیں، اس کے مقابلہ میں سیکولر مدارس غیر حقیقی علم پر۔ یہ فرق بے حد بنیادی ہے۔ اس فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ جس پہلو سے بھی دونوں کے درمیان تقابل کیا جائے دینی مدارس ہر اعتبار سے سیکولر مدارس پر فائق نظر آئیں گے۔ دینی مدارس اور غیر دینی مدارس کے فرق کے بارے میں یہاں جو کچھ لکھا گیا، وہ اصولی اعتبار سے لکھا گیا ہے۔ جہاں تک عملی حیثیت کا تعلق ہے، دینی مدارس میں بہت سی خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ مگر بنیادی بات یہ ہے کہ غیر دینی تعلیم گاہوں میں جو کمیاں ہیں وہ عین ان کے اصول اور فلسفہ کی بنا پر ہیں۔ اور اس اعتبار سے وہ ان کے نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ جب کہ دینی تعلیم گاہوں میں جو کمیاں پائی جاتی ہیں وہ ان کی عملی کوتاہی کا نتیجہ ہیں نہ کہ نظریہٴ تعلیم میں نقص کا نتیجہ۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ عملی کوتاہی کو اصلاحی کوشش سے دور کیا جاسکता ہے، جب کہ نظریاتی نقص کو اس وقت تک دور نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ خود نظریہ ہی کو غلط قرار دے کر اس کو رد نہ کر دیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page