Urdu book · دین و شریعت

مدرسہ کلچر

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اردو ریڈر میں مصنف نے ایک کہانی بیان کی ہے کہ ایک اونٹ بھٹک کر جنگل میں پہنچ گیا۔ اس کی نکیل کی رسی زمین پر گھسٹ رہی تھی۔ ایک چوہے نے دیکھا تو اس کو شوق ہوا کہ میں اس اونٹ کو اپنے ہاں لے جاؤں اور اس کو اپنا مہمان بناؤں۔ اس نے اونٹ کی رسی اپنے منہ میں پکڑی اور اپنی بیل کی طرف چلنے لگا، اونٹ بھی اس کے پیچھے چلنے لگا۔ یہاں تک کہ دونوں وہاں پہنچ گئے جہاں چوہے کی بل تھی۔ اب چوہا بہت پشیمان ہوا کیوں کہ اس نے تقابل کر کے دیکھا تو اس کو معلوم ہوا کہ اس کی بیل بہت چھوٹی ہے اور اس کے مقابلہ میں اونٹ بہت زیادہ بڑا ہے۔ اس کے بعد مصنف نے لکھا تھا: کیا کیا خیال باندھے ناداں نے اپنے دل میں پر اونٹ کی سمائی کب ہو چو ہے کے بل میں یہ حقیقت پسندی کا پہلا سبق تھا جو مجھے اپنی زندگی میں ملا۔ اور بلاشبہ اس دنیا میں حقیقت پسندی کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا۔ خواہ اس کا تعلق انفرادی معاملہ سے ہو یا اجتماعی معاملہ سے۔ ۲۔ مدرسۃ الاصلاح کی تعلیم کے زمانہ میں میرے ایک استاد مولانا نجم الدین اصلاحی (وفات 1995) مرتب مکتوبات شیخ الاسلام تھے۔ ان سے میں نے فارسی کی کئی کتابیں، مثلاً گلستاں اور بوستاں وغیرہ پڑھیں۔ فارسی زبان کی ایک امتیازی صفت یہ ہے کہ اس میں بڑے پیمانہ پر اخلاقی ادب تیار ہوا۔ اخلاقیات پر جتنی اچھی کتابیں فارسی زبان میں ہیں شاید کسی اور زبان میں نہیں۔ چنانچہ فارسی کتابوں سے مجھے حکمت اور اخلاق کی بہت سی اعلیٰ باتیں ملیں۔ استاد مرحوم نے ایک بار فارسی کا ایک شعر سنایا جو عظیم حکمت پر مشتمل ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان صرف سننے کا فرق ہے۔ جس آواز کو تم دروازہ بند ہونے کی آواز سمجھ رہے ہو، اس کو میں دروازہ کھلنے کی آواز کے طور پر سن رہا ہوں: تفاوت است میان شنیدن من و تو تو غلق باب و منم فتح باب می شنوم استاد مرحوم نے اس شعر کی جو تشریح کی تھی وہ طالب علمی کے زمانہ میں زیادہ گہرائی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page