Urdu book · دین و شریعت

مدرسہ کلچر

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ مجھ پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ مگر یہ فارسی شعر میرے حافظہ کا جز ء بن گیا۔ بعد کے مطالعہ اور تجربہ کے درمیان اس کی اہمیت اور معنویت واضح ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ میری سمجھ میں آیا کہ جو بات اس شعر میں کہی گئی ہے وہ موجودہ ناموافق دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اس دنیا میں وہی شخص بڑی ترقی حاصل کر سکتا ہے جس کا شعور اتنا زیادہ بیدار ہو کہ وہ منفی واقعات میں مثبت پہلو تلاش کر سکے۔ وہ دروازہ بند ہونے کی آواز میں دروازہ کھلنے کی آواز سن لے۔ ۳۔ جس مدرسہ میں میری تعلیم ہوئی وہاں عربوں کے کلامِ جاہلیت کا بہت تذکرہ تھا۔ کیوں کہ وہ لوگ قرآن فہمی کے لئے اس کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ مجھے زیادہ دلچسپی اس بات سے تھی کہ اس جاہلی کلام میں حکمت کی باتیں کثرت سے موجود ہیں۔ بعد کے مطالعہ سے میں نے یہ جانا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ جاہلی دور کے عربوں میں انسانی صفات (human qualities) نہایت اعلیٰ درجہ میں موجود تھیں۔ وہ نہایت زندہ لوگ تھے۔ اس کا اظہار ان کے کلام میں ہوتا تھا۔ مدرسہ کی زندگی میں عرب جاہلیت کے جو اشعار میں نے پڑھے اور سنے ان میں سے ایک یہ تھا: جب آدمی کی آبرو و قابلِ ملامت کردار سے گندی نہ ہوئی ہو تو وہ جو چادر بھی اوڑھے وہ اس کے لئے خوبصورت ہوگی: اذا المرء لم یدنس من اللؤم عرضه فکل رداء یرتديه جميل میرا مزاج بچپن سے یہ تھا کہ میں تکلفات کے مقابلہ میں سادگی اور ظاہر داری کے مقابلہ میں حقیقت بینی کو پسند کرتا تھا۔ اس شعر نے غالباً پہلی بار میرے غیر شعوری مزاج کو شعور کا درجہ دیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ ظواہر کی اہمیت میرے ذہن سے نکل گئی۔ میں ہمیشہ یہ دیکھنے لگا کہ کوئی چیز اصل حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے۔ ظاہر دارانہ انداز مجھے یکسر بے معنی نظر آنے لگا۔ ۴۔ میری طالب علمی کے زمانہ میں مدرسۃ الاصلاح کے ایک استاد مولانا محمد احمد لہراوی تھے۔ انہوں نے مجھ کو جو کتابیں پڑھائیں ان میں سے ایک موطا امام مالک تھی۔ حدیث کی اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page