Urdu book · دین و شریعت

تجربات کی روشنی میں

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کی قربت تلاش کرنے کا نام ہے لیکن اس کا عملی اور ظاہری ڈھانچہ اس طرح مقرر کیا گیا ہے کہ وہ مزید اس چیز کی مکمل تربیت بن جاتی ہے جس کو ڈسپلن کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہر مدرسہ طور پر نظم اور ڈسپلن کا ایک تربیتی سنٹر ہوتا ہے۔ مدرسہ کے نظام کے ساتھ ڈسپلن کا اضافہ اس کی اہمیت کو کئی گنا زیادہ بڑھادیتا ہے۔ پانچ وقتہ نماز میں ڈسپلن کا یہ پہلو فرد کی روزانہ زندگی کو منظم کرتا ہے۔ اس کے رات دن کے اوقات گھڑی کی سوئی کی طرح نظم و ضبط کے ساتھ گزرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے منظم افراد سے جو مجموعی سماج بنتا ہے وہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ کوئی بھی طوفان اس کو ہلا نہ سکے۔ الفضل ما شهدت به الاعداء کے اصول پر یہاں قدیم ایران کے مجوسی سپہ سالار رستم کا ریمارک قابل ذکر ہے جو اس نے نماز کے اجتماعی پہلو پر کیا تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں جب مسلم فوجیں ایران میں داخل ہوئیں تو اس وقت وہاں مسقف مسجدیں نہ تھیں۔ چنانچہ یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں کھلے میدان میں باجماعت نماز ادا کرنے لگے۔ رستم نے باجماعت نماز کے منظر کو دیکھا تو اس نے چیخ کر کہا: اکل عمر کبدی، يعلم الكلاب الآداب (مقدمہ ابن خلدون، صفحه ۱۵۲) میں جس زمانہ میں مدرسہ میں پڑھتا تھا وہاں باجماعت نماز کی نگرانی مدرسہ کے ایک سینئر استاد مولانا اختر احسن اصلاحی مرحوم کرتے تھے۔ وہ صبح کو فجر کی اذان کے فوراً بعد ہاسٹل میں آکر طلبہ کو جگایا کرتے تھے۔ اس وقت میں نوجوانی کی عمر میں تھا۔ میری نیند مشکل سے کھلتی تھی۔ چنانچہ مولانا مرحوم میرے بارے میں کہتے: ”یہ بہت سخت سوتا ہے۔“ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ مسجد کے وسیع اور کھلے صحن میں نماز کی صفیں کھڑی ہوئی تھیں۔ غالباً عشاء کی نماز ہو رہی تھی۔ اچانک ایک سانپ مسجد کے اندر داخل ہو گیا۔ وہ صفوں سے گزرتا ہوا پیچھے کی طرف جا رہا تھا جہاں جوتے اتارے جاتے تھے۔ سانپ اگرچہ زیادہ بڑا نہ تھا تاہم سانپ تو سانپ ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ پوری جماعت میں کوئی بھگدڑ نہیں ہوئی۔ لوگ بدستور اپنی جگہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page