تجربات کی روشنی میں
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
لاوری کو جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس معاملہ میں "ادری" کے درجہ تک پہنچ گیا۔ ۲۔ مدرسہ کے نصاب کے تحت میں نے شعر و ادب پر جو کتابیں پڑھیں ان میں سے ایک دیوان الحماسہ ہے۔ یہ کتاب میں نے مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات ۱۹۸۵ء) سے پڑھی۔ مولانا مرحوم کو کلامِ جاہلیت پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ دیوان الحماسہ عرب جاہلیت کے شعراء کے کلام کا انتخاب ہے جس کو ابو تمام (وفات ۸۴۵ء) نے تیار کیا تھا۔ طالبِ علمی کے زمانہ میں مجھے اس دیوان کے بہت سے اشعار یاد ہو گئے تھے۔ ان میں سے بعض اشعار ایسے ہیں جن کا میری زندگی پر گہرا اثر پڑا۔ اس کا ایک شعر یہ ہے: اذا المرء اعیته المروة ناشئاً فمطلبها کهلاً علیه شدید جب آدمی جوانی کی عمر میں مردانگی کی صفات حاصل کرنے میں عاجز رہ جائے تو ادھیر عمر میں اس کو پانا اس کے لئے بہت مشکل ہے۔ اس عربی شعر کی جو تشریح استاد محترم نے کی اس سے میں نے زندگی کی اس حقیقت کو سمجھا کہ کام کرنے کی بہترین عمر جوانی کی عمر ہوتی ہے۔ جو آدمی جوانی کی عمر کو استعمال نہ کر سکے وہ زیادہ عمر کو پہنچنے کے بعد کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طالبِ علمی کے زمانہ ہی سے میرا یہ مزاج بن گیا کہ میں اپنے وقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں کرتا تھا۔ رات دن کے ہر لمحہ کو میں مفید طور پر استعمال کرنے لگا۔ ابتدائی عمر سے عمل کا یہ مزاج بن جانا میرے لئے بے حد کار آمد ثابت ہوا۔ اگر میں جوانی کی عمر کو غیر ضروری چیزوں میں کھو دیتا تو بعد کو میرے ساتھ وہی المیہ پیش آتا جس کو مسٹر رشید کوثر فاروقی ایم اے نے اپنے ایک شعر میں اس طرح نظم کیا ہے: زیست کار از کھلاگر دش ایام کے بعد اس کہانی کا تو آغاز تھا انجام کے بعد ۳۔ مدرسہ کے ماحول میں عملی اعتبار سے جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے وہ رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔ باجماعت نماز کا نظام مدرسہ کی زندگی میں مرکزی حیثیت (central position) رکھتا ہے۔ نماز اگرچہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader