تجربات کی روشنی میں
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
مضمون (حالات بدل سکتے ہیں) میں لکھا تھا جو ماہنامہ الفرقان (لکھنو) کے شمارہ ذیقعدہ۔ ذی الحجہ ۱۳۸۳ھ میں چھپ چکا ہے۔ یہ واقعہ الفرقان کے صفحات سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے : غالباً ۱۹۳۰ء کی بات ہے۔ ہمارے علاقہ میں سخت خشک سالی ہوئی ۔ برسات کا موسم گزرتا جا رہا تھا۔ مگر بارش کا کہیں پتہ نہ تھا۔ کسان روز آنہ صبح اٹھتے ہی آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ مگر بادل کا ایک ٹکڑا بھی کہیں نظر نہ آتا تھا۔ بالآخر جب مایوسی حد کو پہنچ گئی تو یہ تحریک ہوئی کہ استسقاء کی نماز پڑھی جائے۔ مدرسۃ الاصلاح سے تقریباً دو کلومیٹر دور ایک میدان میں مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ اور اطراف کی بستیوں کے مسلمان جمع ہوئے۔ مرحوم مولانا محمد سعید صاحب جو اس وقت مدرسۃ الاصلاح میں استاد تھے اور جن سے میں نے حدیث پڑھی تھی، انھوں نے استسقاء کی نماز پڑھائی اور آخر میں بارش کے لئے دعا کی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ ہم لوگ سخت چلچلاتی ہوئی دھوپ میں سفر کر کے وہاں پہنچے تھے اور اس حال میں نماز ادا کی تھی کہ جسم پسینہ سے شرابور ہو رہا تھا۔ مگر نماز سے فارغ ہو کر جب ہم لوگ واپس ہوئے تو راستہ ہی میں بارش شروع ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے درختوں کے نیچے پناہ لی اور کچھ بھیگتے ہوئے اپنے گھروں کو بھاگے۔ (صفحہ ۴۴) اس تجربہ میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں خدا کی مدد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ واقعہ میرے لئے اس عقیدہ کا ایک حستی مظاہرہ بن گیا کہ " مانگو تو پاؤ گے، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔" اس وقت میری عمر ۲۰ سال کے قریب تھی جب کہ انسان چیزوں کو نہایت شدت کے ساتھ اخذ کرتا ہے۔ چنانچہ یہ تجربہ میرے شعور کا مستقل جزء بن گیا۔ وہ میری پوری شخصیت میں اس طرح شامل ہو گیا کہ پھر وہ کبھی مجھ سے جدا نہ ہو سکا۔ اس طرح کے تجربات صرف دینی مدرسہ کے ماحول میں پیش آتے ہیں۔ اس طرح مدرسہ علم کے حصول کے ساتھ روحانی تربیت کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ مدرسہ کے ماحول میں آدمی کو بار بار اعتماد علی اللہ اور معرفت آخرت کی خوراک ملتی رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader