Urdu book · دین و شریعت

دین و شریعت

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں تیار ہونے والا انسان علم اور روحانیت دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ کہ یک طرفہ قسم کا انسان، جیسا کہ عام طور پر سیکولر تعلیم گاہوں میں پایا جاتا ہے۔ مدرسہ کی یہ تربیت میرے لئے زندگی کے دور میں میرا سب سے بڑا سرمایہ بنی رہی۔ کسی بڑے کام کا حوصلہ اللہ پر اعتماد کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہی سرمایہ مدرسہ سے مجھ کو حاصل ہوا۔ مجھے اپنے مقصد حیات کے اعتبار سے مادی ذرائع سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنا تھا۔ اس قسم کے مشکل فیصلہ پر قائم رہنا میرے لئے زیادہ تراسی مدرسہ کی تربیت کی بنا پر ممکن ہو سکا۔ احیاء دعوت کا مشن جو میں نے اپنی زندگی میں اختیار کیا وہ حدیث کی زبان میں معروف دین کے مقابلہ میں اجنبی دین کے لئے کھڑا ہونا تھا۔ یہ بلاشبہہ اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل مشن ہے۔ اس میں آدمی کو اکیلا ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔ پہاڑوں اور سمندروں کو عبور کرنا آسان ہے مگر اجنبی دین کو لے کر چلنا آسان نہیں۔ اللہ کے فضل سے میں اس دشوار ترین منصوبہ پر ہر قسم کی رکاوٹوں اور ناموافق حالات کے باوجود قائم رہا۔ یہاں تک کہ فضا تبدیل ہو گئی۔ اس انجام کو دیکھنے کے لئے مجھے ۴۰ سال کا صبر آزمائ انتظار کرنا پڑا۔ اور اس قسم کا انتظار اعتماد علی اللہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ غیر سیاسی ایمپائر لارڈ میکالے کی مذکورہ تعلیمی اسکیم کا مطلب یہ تھا کہ بر صغیر ہند کے مسلمانوں کو انگلش کلچر کے رنگ میں رنگ دیا جائے ۔ اس وقت ہندوستان کے علماء اگر یہ کرتے کہ لارڈ میکالے کے خلاف احتجاج کا طوفان برپا کرتے، انگریز وائسرائے پر بم مارتے، یا انگریزی اسکولوں اور کالجوں میں آگ لگاتے تو اس کا کچھ بھی نتیجہ حاصل نہ ہو تا بلکہ اس قسم کی منفی سرگرمیاں مسلمانوں کی تباہی میں شاید کچھ اور اضافہ کر دیتیں۔ جیسا کہ ۱۸۵۷ کے تشددانہ تجربہ کے بعد پیش آیا۔ اس کے بجائے علماء اسلام نے یہ کیا کہ لارڈ میکالے کے تعلیمی منصوبہ کے مقابلہ میں ایک جوابی تعلیمی منصوبہ بنایا۔ انہوں نے خاموشی کے ساتھ پورے ملک میں مدارس قائم کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page