فکری روشنی
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری روشنی
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی بابت اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نور ہے اور کتاب مبین ہے (المائدہ ۱۵)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے اس حیثیت سے اتارا ہے کہ وہ انسانوں کے لئے فکری روشنی بنے۔ جس طرح اندھیرے میں لائٹ جلائی جائے تو ہر چھپی چیز کھل کر دکھائی دینے لگتی ہے۔ اسی طرح قرآن ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کو فکری اندھیرے سے نکال کر فکری روشنی میں لے آئے۔ قرآن فکری روشنی کا ذریعہ ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ہر پیش آمدہ صورت حال میں واضح رہنمائی دیتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ انسان کو اس کی وسع کے بقدر مکلف کرتا ہے (البقرہ ۲۸۶)۔ وسع کا مطلب عملی استطاعت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اوپر جو شرعی مسئولیت ہے وہ یہ نہیں ہے کہ آدمی بیک وقت قرآن و سنت میں آئے ہوئے تمام کے تمام احکام پر کار بند ہو جائے، اس کے بجائے اس ذمہ داری کی نوعیت یہ ہے کہ آدمی عملی طور پر جن حالات میں ہو ان حالات کی نسبت سے وہ اپنی ذمہ داری کا تعین کرے اور اس کا پابند بن جائے۔ گویا کہ آدمی کے اوپر عملاً دین ممکن کی ذمہ داری ہے نہ کہ دین مکمل کی۔ دوسرے لفظوں میں، پیروی کے اعتبار سے شریعت میں جو تقسیم ہے وہ مکمل اور نامکمل کی نہیں ہے بلکہ وسع کے اندر اور وسع کے باہر کی ہے۔ موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں حالات بدلتے رہتے ہیں۔ افراد اور گروہوں کو بار بار مختلف اور متنوع حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ تبدیلی احوال کا یہ معاملہ خود پیغمبروں کے ساتھ بھی پیش آیا۔ چنانچہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانی حالات کے اعتبار سے شریعت الہی کی پیروی کی اور اپنے عصر لوگوں کو اس کی رہنمائی دی۔ اس طرح ہر پیغمبر اس کا ایک مستقل نمونہ ہے کہ اس کے جیسے حالات میں شریعت خداوندی کی پیروی کس طرح کی جائے۔ یہی خاص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader