فکری روشنی
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
مصلحت ہے جس کی بنا پر قرآن میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ پچھلے زمانہ کے پیغمبروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اور ان کے عملی نمونوں سے اہل ایمان کو واقف کرایا گیا۔ تاکہ ہر قسم کے حالات میں اہل ایمان اپنے لئے ایک مستند پیغمبرانہ نمونہ پالیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پچھلے دور کے پیغمبروں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے : اولئك الذين هدى الله فبهدهم اقتده (الانعام ۹۰) یعنی یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی پس تم بھی انہی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ اس آیت کے مطابق، ہر پیغمبر کی زندگی ایک مستند ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب بھی کسی خدا پرست گروہ کو اپنے حالات اور کسی پیغمبر کے حالات میں مشابہت نظر آئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آج کے اہل ایمان کے لئے بھی وہی نمونہ مطلوب نمونہ بن جائے گا جو جو قرآن کے بیان کے مطابق کسی پیغمبر کے یہاں ثابت ہو رہا ہے۔ یہ ایک عظیم فکری رہنمائی ہے جو قرآن کے ذریعہ اہل ایمان کو دی گئی۔ اس سے انہیں وہ واضح رہنمائی ملتی ہے جس کی روشنی میں وہ اپنے معاملہ کی نوعیت کو سمجھیں اور اپنے حالات کے لحاظ سے اللہ کا مطلوب نمونہ دریافت کر لیں۔ واضح ہو کہ دین کے دو حصے ہیں۔ ایک اساسی، دوسرے تفصیلی۔ جہاں تک دین کے اساسی حصہ، مثلاً توحید اور رسالت وغیرہ کا تعلق ہے ، وہ ہمیشہ غیر متغیر طور پر ایک رہتے ہیں اور ہر پیغمبر کے یہاں وہ ایک ہی تھے۔ زمانی اعتبار سے دین کے احکام میں جو تبدیلی ہوتی ہے وہ صرف تفصیلی معاملات میں ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی اپنی حقیقت کے اعتبار سے دینی حکم کے از سر نو انطبا ق (re-application) کے ہم معنیٰ ہوتی ہے۔ یہاں اسی پہلو سے چند پیغمبرانہ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ چند مثالیں ا۔ مثلاً اگر کوئی مصلح اپنے آپ کو اس حال میں پائے کہ اس کو ایک زوال یافتہ امت کے درمیان اصلاحی کام کرنا ہے تو اس کے لئے حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ مثال ملے گی کہ اس کے لئے اپنے عمل کا آغاز غیروں کے خلاف جہاد نہیں ہے بلکہ خود اپنی امت کو کم از کم ۴۰ سال تک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader