Urdu book · دین و شریعت

تفسیر بالرائے

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

لفظ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کے قاری سے یہ مطلوب ہے کہ وہ گہرے غور وفکر سے اس میں نئے نئے معانی دریافت کرے اور ان سے اپنے ایمانی شعور میں اضافہ کرتا رہے۔ قرآن میں اگر یہ صفت نہ ہو تو وہ لوگوں کے لئے نصیحت اور اضافہ ایمان کی کتاب نہ بن سکے گا۔ گہری نصیحت نئے نئے معانی کی دریافت کے ذریعہ ہوتی ہے نہ کہ کچھ معلوم اور محدود باتوں کی تکرار سے۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں۔ حدیث سے صراحتہً بھی یہ ثابت ہوتا ہے نہ قرآن میں نئے معانی کی دریافت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ نے فرمایا’’ ولا تنقضی عجائبہ‘‘ (الدارمی، فضائل القرآن، الترمذی، ثواب القرآن) یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہونگے۔ ایک اور روایت میں ’’ لا تفنی ‘‘ کا لفظ ہے۔ یعنی قرآن کے عجائب کبھی فنانہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب سے مراد معنوی عجائب ہیں۔ یعنی قرآن کے معانی اتنے زیادہ ہیں کہ ہر دور کے علماء اس سے نئے نئے معانی دریافت کرتے رہیں گے۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ تاریخ کے ہر دور میں قرآن کی آیتوں میں نئے نئے معانی کی دریافتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کو استنباط کہا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں تفسیر کی ہر کتاب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں اعداد قوت کے تحت جنگی گھوڑوں کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے (الانفال ٦٠)۔ موجودہ زمانہ میں جنگی گھوڑوں کی جگہ جنگی مشینوں نے لے لی ہے۔ چنانچہ تمام علماء اب اس آیت کی تفسیر کے تحت کہتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی کی بنا پر اس آیت میں جنگی گھوڑوں کے بجائے جنگی مشینوں کی فراہمی مراد لی جائے گی۔ کیونکہ اب جنگی گھوڑوں کے ذریعہ ارباب کا فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ جس کو مذکورہ آیت میں اعداد قوت کا مقصود بتایا گیا ہے۔ اب ارباب کا یہ فائدہ مشینی طاقت کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے۔ قرآن ہر دور میں مسلمانوں کے لئے ذہنی اور علمی ارتقاء کا ذریعہ رہا ہے۔ قرآن کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ ذہن انسانی کو مہمیز کرتا ہے اور اس کو بار بار غور وفکر کے اوپر ابھارتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page