Urdu book · دین و شریعت

تفسیر بالرائے

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

تفسیر بالرائے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرنا ایک گناہ کا فعل ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قرآن کی کسی آیت کا غلط مفہوم بیان کرے تو یہ تحریف ہے، (البقرہ ۷۵) اور قرآن میں اس قسم کی تحریف بلاشبہ ایک نا قابل معافی جرم ہے۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ نازک ہے کہ محض اپنی رائے کے تحت کی ہوئی تفسیر اگر بالفرض درست ہو، تب بھی یہ اندیشہ ہے کہ وہ آدمی کے لئے گناہ کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”من قال فى كتاب الله عز و جل برأيه فأصاب فقد أخطأ“، (سنن ابی داود، كتاب العلم ۳/ ۳۱۹) یعنی جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی رائے سے کہا اور اس نے صحیح کہا تب بھی اس نے غلطی کی۔ ضروری تفسیری تقاضوں کو پورا کئے بغیر محض اپنی رائے سے قرآن کا مفہوم بیان کرنا ایک غیر محتاط روش ہے۔ اس لئے ایسے کس کی آدمی کی تفسیر اگر اتفاقاً درست ہو تب بھی ایسا شخص اپنی غیر محتاط روش کی بنا پر غلط کار ٹھہرے گا۔ ایسے آدمی کو صحیح تفسیر کرنے کا انعام نہیں مل سکتا۔ تفسیر قرآن کے سلسلے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حدیث اور آثار میں جو تفسیریں منقول ہیں یا قدماء نے قرآنی آیات کی جو تفسیریں بیان کی ہیں، تفسیر قرآن کا کام بس اسی دائرے کے اندر ہونا چاہئے۔ گویا بعد کی مسلم نسلوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ابتدائی دور کے علماء اور مفسرین کے اقوال کو دہراتے رہیں۔ مگر مذ کورہ حدیث کا یہ مطلب درست نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں (ص ۲۹) قرآن جب ایک ایسی کتاب ہے جس پر ہر قاری تدبر اور غور و فکر کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف پچھلی بیان کردہ باتوں کو پڑھایا جائے اور بس انہیں کو دہرایا جاتا ہے۔ تدبر کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page