Urdu book · دین و شریعت

تفسیر بالرائے

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ترجمہ اور تفسیر دونوں تفسیر بالرائے کی ایک بدترین صورت میں ہے، عقل سلیم ہی اس کو غلط سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنے آپ میں بڑا ہے۔ وہ اس کا محتاج نہیں کہ اس کی کوئی مخلوق کسی پہلو سے اس کو بڑا کرے۔ آیت کے مطابق، انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کو اپنے دل اور دماغ میں اتارے۔ اللہ کی عظمت کا احساس اس کی روح کے اندر تیرنے لگے۔ اپنے چھوٹا ہونے اور اللہ کے بڑا ہونے کا عرفان اس کو انسان اصلی (man cut to size) بنادے۔ یہی تکبیر رب کا مطلب ہے۔ مذکورہ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ــــ اور اپنے رب کی بڑائی کرو، یا اپنے رب کی بڑائی بول، یا اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اس ترجمہ کے مطابق، آیت میں جس تکبیر رب کا ذکر ہے اس کا تعلق کسی خارجی سیاست سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی داخلی کیفیت سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا دماغ اللہ کی عظمت کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اس کا دل اللہ کی عظمت کے احساس سے تڑپ اٹھے۔ اللہ کی عظمت کا اعتراف اس کی زبان پر جاری ہو جائے۔ یہی وہ تکبیر رب ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ ۲۔ قرآن کے آغاز میں یہ آیت آئی ہے ’’ذلك الكتاب لا ريب فيه ‘‘ (البقرہ ۲) یعنی یہ کتاب (الہی) ہے، اس میں کوئی شک نہیں، یہ یا کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اس آیت کی نحوی ترکیب میں کچھ اختلاف ہے۔ تاہم ہر مفسر نے یہاں کتاب کو کتاب ہی کے معنی میں لیا ہے۔ اس کے بارے میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ وہ تمام ترجمے غلط ہیں جن میں ’’ذلك الكتاب ‘‘ کا ترجمہ کتاب سے کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک قرآن تمام علوم کا خزانہ ہے۔ اس لئے ذلك الكتاب کا سب سے قریبی ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک انسائیکلو پیڈیا ہے۔ یہ ترجمہ یقینی طور پر رائے کی بنیاد پر کیا گیا ہے نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر، اس لئے کہ انسائیکلو پیڈیا ایسی کتاب کا نام ہوتا ہے جس میں ہر قسم کی معلومات یکجا کی گئی ہوں۔ مگر قرآن انسائیکلو پیڈیا مفہوم میں معلومات کا مجموعہ نہیں۔ اس کے بجائے وہ علم اور معرفت کا مجموعہ ہے۔ وہ خزانہٴ حکمت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page