تفسیر بالرائے
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
ضرور ہے مگر وہ معروف معنی میں، خزانہ معلومات نہیں۔ مثال کے طور پر اسلام کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، مگر قرآن میں یکجائی طور پر کہیں یہ کلمہ موجود نہیں۔ اسلام میں نماز پانچ وقتوں کے لئے فرض کی گئی ہے۔ مگر پانچ کے عددی تعین کے ساتھ قرآن میں نماز کا حکم موجود نہیں۔ انسائیکلوپیڈیا میں جن اشخاص کا ذکر آتا ہے، اس میں سال پیدائش اور سال وفات کے ساتھ ان کا ذکر آتا ہے۔ مگر قرآن میں پیغمبر اسلام نیز دوسرے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کی سال پیدائش یا سال وفات قرآن میں مذکور نہیں۔ اس طرح کی ہزاروں معلوماتی باتیں ہیں جن سے قرآن کے صفحات خالی ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کتاب کا ترجمہ انسائیکلوپیڈیا کے لفظ سے کرنا ایک ذاتی اپج ہے، اس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔ ۳۔ قرآن میں ایک حکم وہ ہے جو ”اقیموا الدین“ (الشوریٰ ۱۳) کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس آیت کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ تم الدین کو قائم کرو۔ کچھ لوگوں نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں الدین سے مراد قرآن و حدیث میں وارد شدہ تمام شرعی اور دینی احکام ہیں۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام شرعی اور دینی احکام کو ایک مکمل نظام کے طور پر دنیا میں نافذ کرو۔ آیت کی یہ تفسیر بلاشبہ تفسیر بالرائے کے حکم میں آتی ہے کیوں کہ وہ قرآن فہمی کے واضح اصولوں کے خلاف ہے۔ مثال کے طور پر، اس آیت میں صراحتہ اس حصہ دین کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے جو حضرت نوح کو اور حضرت ابراہیم کو اور حضرت موسیٰ کو اور حضرت عیسیٰ کو اور حضرت محمد کو مشترک طور پر دیا گیا۔ اس مخصوص انداز بیان کی بنا پر تمام مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ یہاں الدین سے مراد صرف دین کی اساسی تعلیمات ہیں کیوں کہ مختلف پیغمبروں کا مشترک دین یہی اساسی تعلیمات تھیں۔ جہاں تک تفصیلی شرائع کا تعلق ہے وہ نص قرآنی (المائدہ ۴۸) کے مطابق مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف تھیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader