اسلام کا طریق انقلاب
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بجائے عدل کا جھنڈا اٹھانے کو مسلمانوں کا فریضہ منصب قرار دیا۔ انہوں نے دعوت کو عملی شہادت سے جوڑ کر یہ ذہن نشین کرانے کی کوشش کی کہ جب تک سیاسی اقتدار پر قبضہ کر کے زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی قوانین جاری نہ کئے جائیں اس وقت تک دعوت و شہادت کا کام انجام ہی نہیں دیا جا سکتا، وغیرہ۔ اس قسم کی ہر تعبیر سراسر محرفانہ تعبیر ہے۔ وہ اسلام کے پورے ڈھانچے کو بدل دینے والی ہے۔ ان تعبیرات کا نتیجہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے متاثر ہونے والوں کے اندر احتسابِ خویش کے بجائے احتسابِ غیر کا مزاج پیدا ہو۔ ان کے اندر متقیانہ ذہن کے بجائے سیاسی ذہن تشکیل پائے، وہ اہلِ عالم کو مدعو کے بجائے حریف کی نظر سے دیکھنے لگیں، وہ محبتِ انسانیت کے بجائے نفرتِ انسانیت میں جینے لگیں۔ وہ مسلم معاشرہ کو حکمراں اور غیر حکمراں میں تقسیم کر کے لامتناہی قسم کی باہمی نزاع چھیڑ دیں۔ وہ لوگوں کو تعمیری کام کے بجائے تخریبی کام میں مشغول کر دیں۔ خلاصہ یہ کہ اسلام کے نام پر وہ لوگوں کو غیر اسلام کی راہوں میں دوڑا دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader