تاریخ کے دو دور
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کے دو دور دعوت کے نقطہ نظر سے دنیا کی تاریخ کو دو دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے__ شرک کا دور، اور مادیت کا دور۔ اسلام کے ظہور سے پہلے ہزاروں سال تک کا زمانہ شرک کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں سیاست اور تمدن کے تمام شعبے اس طرح شرک کے حامی بن چکے تھے کہ شرک نے عملاً مجبور کن شرک (compulsive polytheism) کی صورت اختیار کر لی تھی۔ اب تاریخ مادیت کے دور سے گزر رہی ہے۔ دوبارہ ایسا ہوا ہے کہ مادیت نے زندگی کے ہر شعبہ پر قبضہ کر کے عملاً مجبور کن مادیت (compulsive materialism) کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ قدیم زمانہ میں دعوت توحید کی کامیابی اگر ردِ شرک پر منحصر تھی تو موجودہ زمانہ میں دعوت توحید کی کامیابی ردِ مادیت پر منحصر ہو گئی ہے۔ قدیم شرک کا دور شرک کیا ہے۔ شرک در اصل مظاہر فطرت کی پرستش (Nature worship) کا نام ہے۔ سائنس کے ظہور سے پہلے، قدیم زمانہ کا انسان اشیاء کی حقیقت سے واقف نہ تھا وہ فطرت کے مظاہر کو دیکھتا تو وہ ان کی ظاہری عظمت سے متاثر ہو جاتا۔ وہ ان کو معبود سمجھ کر انہیں پوجنے لگتا۔ سورج اور چاند اور ستاروں کی چمک، پہاڑوں کی بلندی اور دریاؤں کی روانی، اس قسم کے پرہیبت مناظر انسان کو مرعوب کر دیتے تھے۔ وہ ان کو اپنے آپ سے برتر سمجھ کر انہیں پوجنے لگتا تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف چار ہزار سال پہلے کے ایک پیغمبر نے اپنے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: ربِ إنهن أضللن كثيرا من الناس (ابراهیم ۳۶) یعنی اے میرے رب، انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ اس سے مراد سورج اور چاند اور ستارے ہیں جن کی پرستش میں اس زمانہ کے لوگ مبتلا تھے۔ ان الفاظ میں پیغمبر نے اپنے دل کے اس درد کا اظہار کیا کہ لوگ مخلوقات کی چمک دمک کو دیکھ کر اس کی عبادت میں مبتلا ہو گئے اور خالق کو اور اس کی عبادت کو چھوڑ دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader