اقامت الدین، تفرق فی الدین
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف مڑ گئی۔ موصوف اگر کھانے کی "نعمت" کے پہلو کو ابھارتے تو یہ کہی ہوئی بات کی اقامت ہوتی۔ جب انھوں نے "ایک دن" کے پہلو کو لے کر اس پر تقریر شروع کر دی تو انہوں نے گویا اصل بات سے تفرق کیا۔ وہ شاہراہِ کلام سے جدا ہو گئے۔ اب ایک اور مثال لیجئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان تمام ملکوں میں کسی نہ کسی طاقت کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ کہیں کسی اقتصادی طاقت کا، کہیں کسی اکثریتی طاقت کا، کہیں کسی سیاسی اور فوجی طاقت کا۔ اس مسئلہ کا حقیقی حل صرف اعداد قوت (انفال ۶۰) ہے۔ یعنی مسلمانوں کا طاقتور ہونا۔ ظلم و زیادتی ہمیشہ بے طاقتی کی سزا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو طاقتور بنا کر ہی اس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ طاقتور بنانے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو علم و شعور سے آراستہ کیا جائے، ان میں باہمی اتحاد پیدا کیا جائے، ان کو جدید فکری اور عملی قوتوں سے مسلح کیا جائے۔ ان پہلوؤں سے تیار ہونے کا نام طاقتور ہونا ہے اور جو قوم ان چیزوں میں طاقتور ہو جائے اس کے اوپر کوئی ظالم، ظلم کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس دوسرا طریقہ یہ ہے کہ احتجاج اور مطالبات کا لفظی طوفان برپا کیا جائے۔ جلسے جلوس کی دھوم مچائی جائے۔ تقریروں اور تجویزوں کا سیلاب بہایا جائے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض وقتی ہنگامے ہیں جن کا کوئی بھی حقیقی فائدہ قوم کو ملنے والا نہیں۔ ان دونوں طریقوں میں سے پہلا طریقہ ملت کی اقامت کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ ملت کے مسئلہ سے تفرق کا طریقہ۔ پہلا کام اصل کام ہے جب کہ دوسرا کام اصل کام کی نسبت سے غیر متعلق کام، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے ملت کے محاذ سے متفرق ہونا ہے نہ کہ ملت کے محاذ پر جد و جہد کرنا۔ ان مثالوں سے اقامت دین اور تفرق فی الدین کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔ مذکورہ آیت میں "الدین" سے مراد وہ اصل دین ہے جو تمام نبیوں پر اترا۔ یعنی توحید۔ توحید سے مراد ہے اللہ کو تنہا خالق اور مالک اور معبود جاننا، اسی پر بھروسہ کرنا، اسی سے ڈرنا اور اسی سے محبت کرنا، اپنے تمام بہترین جذبات کو اسی کی طرف متوجہ کر دینا۔ اپنا سب کچھ صرف اللہ کو بنا لینا ۔ اللہ سے یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader