Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

وابستگی جب کسی کے اندر حقیقی معنوں میں پیدا ہوتی ہے تو وہی آدمی کی زندگی بن جاتی ہے۔ وہ اس کی پوری زندگی کو کچھ سے کچھ کر دیتی ہے۔ آدمی کا سوچنا، اس کا بولنا، اس کا عمل کرنا، اس کا لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا، اس کا مختلف حالات میں ردِ عمل ظاہر کرنا، سب اسی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ آدمی اندر سے باہر تک پوری طرح خدا کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ الدین (توحید) کو اس طرح اپنے اندر سمونے کا نام اقامت دین ہے۔ یہ اقامت دین اولاً فرد کے اپنے اندر متحقق ہوتا ہے اور اس کے بعد حسبِ حالات وہ اجتماعی زندگی میں ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں تفرق فی الدین یہ ہے کہ اصل دین کے ارد گرد غیر متعلق بحثیں نکال کر اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا جائے۔ مثلاً اسلامی عقائد میں خود ساختہ کلامی بحثیں چھیڑنا، اسلامی عبادات میں بطور خود مسائل و وضع کر کے فقہی جھگڑے کھڑے کرنا۔ اسلامی کیفیات پیدا کرنے کے نام پر نئی نئی ”روحانی“ ورزشیں تجویز کرنا۔ اور لوگوں میں اس کو رواج دینا۔ اسی طرح یہ بھی تفرق فی الدین ہے کہ ”توحید“ کے علاوہ دوسری دوسری چیزوں کو عنوان بنا کر تحریکیں چلائی جائیں۔ مثلاً خدائی حکومت قائم کرنے کے نام پر، اسلام کی عظمت رفتہ کو واپس لانے کے نام پر، خیر الامم کو اس کے مقام بلند کی طرف لے جانے کے نام پر، فساد فی الارض اور طاغوتی نظام کو ختم کرنے کے نام پر، وغیرہ۔ اقامت دین حقیقی معنوں میں موحد بننے کا نام ہے اور تفرق فی الدین دین کے نام پر دوسری چیزوں میں متفرق ہونے کا۔ قدیم حاملین شریعت اسی قسم کے تفرق میں مبتلا ہو گئے تھے، چنانچہ ان کے بارہ میں کہا گیا: وما تفرق الذين اوتوا الكتاب الا من بعد ما اور اہل کتاب واضح دلیل آنے کے بعد بھی دین جاء تهم البينة . وما امروا الا ليعبدوا الله میں متفرق ہو گئے۔ حالاں کہ ان کو یہی حکم ہوا تھا مخلصين له الدين حنفاء ويقيموا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں دین کو اس کے لئے الصلوة ويوتوا الزكوة و ذلك دين خالص کر کے ،بالکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں القيمة (البینہ) اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی ہے درست دین۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page