Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

رہنماؤں کی طرح شریعت اسلام کے نام سے صرف مدون فقہ کو جانتے تھے، یعنی وہ فقہ جو اس وقت تیار ہوئی جب کہ اہل اسلام ہر اعتبار سے طاقت اور اقتدار کی حالت میں تھے۔ اس بنا پر اس زمانہ میں بننے والی اسلامی فقہ شعوری یا غیر شعوری طور پر، گویا طاقتوروں کی فقہ ہو گئی ۔ وہ طاقت اور اقتدار کی حالت کی نمائندگی کر رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جب مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ اب وہ مطلق اقتدار سے محروم ہو گئے ہیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی شریعت انہیں ان کی متواضع حالت کے لئے کوئی مثبت رہنمائی نہیں دے رہی ہے۔ اس بنا پر موجودہ زمانہ میں انہیں اس کے سوا کوئی اور کام نظر نہ آیا کہ وہ اقتدار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے دوسروں سے لڑائی چھیڑ دیں۔ دور اقتدار میں مدون ہونے والی فقہ میں بلاشبہہ یہ رہنمائی موجود نہ تھی مگر دور اول میں جو قرآن اترا وہ بلاشبہہ ابدی تعلیمات پر مشتمل تھا۔ اس میں ہر حالت کے لئے رہنمائی موجود تھی، حتی کہ اُس حالت کے لئے بھی جس کو مذکورہ مسلم رہنما نے متواضع حالت سے تعبیر کیا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ مسلمان ہمیشہ یکساں حالت پر نہیں رہیں گے۔ ان کو کبھی ایک حالت سے سابقہ پیش آئے گا اور کبھی دوسری حالت سے ۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دوسروں کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان لانے والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا (آل عمران (۱۲۰) پیغمبر اسلام ﷺ پر یہ دونوں حالتیں گزریں۔ آپ کا مکی دور گویا آپ کے لئے متواضع حالت کا دور تھا اور آپ کا مدنی دور گویا آپ کے لئے طاقتور حالت کا دور ۔ یہ دونوں حالتیں یکساں طور پر مطلوب حالتیں ہیں، اور دونوں حالتوں کے لئے پیغمبر کی سیرت میں یکساں نمونہ موجود ہے۔ دونوں نمونوں میں سے کوئی نمونہ نہ کمتر نمونہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی برتر نمونہ ۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں سارا فیصلہ داخلی نیت پر ہوتا ہے نہ کہ خارجی اعتبار سے سیاسی یا غیر سیاسی حالت پر ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page