تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
شتم رسول کا مسئلہ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ پر شتم کرے، خواہ وہ اشارہ ہی کیوں نہ ہو، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ شاتم رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یقتل حد آً) اس معاملہ میں بہت کم کسی قابل ذکر فقیہہ کا استثناء پایا جا سکتا ہے۔ اس حکم کی تفصیل کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجئے: ا۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ابن تیمیه ۲۔ السیف المسلول علی من سب الرسول، تقی الدین ابو الحسن علی السبکی ۳۔ تنبیہ الولاة والحكام على احكام شاتم خير الأنام أو احد اصحابه الكرام، ابن عابدین الشامی اس مسئلہ پر جب بھی کوئی شخص کوئی مضمون یا کتاب لکھتا ہے تو وہ ہمیشہ یہی کرتا ہے کہ ان فقہاء کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرتا ہے کہ شتم رسول کی سزا اسلام میں قتل ہے، اور یہ کہ یہ ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ ہے جس پر شاید کسی فقیہہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت کا مسئلہ یہی ہے کہ شاتم رسول کو لازماً بطور حد قتل کیا جائے تو یہ مسئلہ دور اول کے اسلام میں کیوں موجود نہ تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ بتاتی ہے کہ اُس زمانہ میں بہت سے ایسے افراد موجود تھے جو شتم رسول کا فعل کر رہے تھے، مگر انہیں قتل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک انتہائی واضح مثال مدینہ کے عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ہے۔ وہ ایک کھلا ہوا شاتم رسول تھا۔ وہ رات دن شتم رسول کے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کا شاتم ہونا غیر مشتبہ طور پر ثابت تھا۔ پھر بھی لوگوں کے اصرار کے باوجود، رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرا۔ اس عدم قتل کا سبب کیا تھا۔ علامہ ابن تیمیہ (وفات ۷۲۸ھ) نے اس واقعہ کا ذکر کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader