Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی غلطی بر صغیر ہند کے مسلم رہنماؤں سے اس وقت ہوئی جب کہ انگریزوں کے غلبہ کے بعد انہوں نے ہندوستان کے دار الحرب ہونے کا اعلان کیا۔ شاہ عبد العزیز دہلوی نے ۱۸۲۳ء میں یہ فتوٰی دیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پانچ سو علماء نے اپنے مشترک دستخطوں سے یہ فتوٰی جاری کیا کہ مسلمانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ مسلمانوں ہند کو چاہئے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد (قتال) کا آغاز کر دیں۔ مسلم رہنماؤں کے ان فتووں اور اپیلوں کے بعد ہندوستان کے مسلمان ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد میں مشغول ہو گئے۔ سو سالہ جنگ کے باوجود یہ جہاد عملاً سرا سر بے نتیجہ ثابت ہوا۔ مگر عجیب بات ہے کہ آج بھی یہ مسلمان اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان یہی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان دار الحرب ہے اور انہیں جہاد کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرنا چاہئے۔ یہ عجیب و غریب صورت حال کیوں ہے، اس کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ اجتہاد اور تقلید کے بارے میں اپنے مذکورہ مقلدانہ مسلک کی بنیاد پر ان کا ذہن بعد کو مدون ہونے والی فقہ میں اٹکا ہوا ہے۔ اور اس فقہ میں ملکوں کی جو تعریف و تقسیم کی گئی ہے، اس کے مطابق، ہندوستان جیسا ملک دار الحرب ہی قرار پاتا ہے۔ یہ مسلم رہنما اگر فقہ اور فقہاء کے درمیانی دور سے پیچھے جاتے اور قرآن و سنت کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ ہندوستان کی شرعی حیثیت کیا ہے تو یقینی طور پر وہ جان لیتے کہ موجودہ ہندوستان ان کے لیے دار الدعوة کی حیثیت رکھتا ہے، جیسا کہ دور اول میں اس قسم کے تمام علاقے اہل اسلام کے لیے دار الدعوۃ کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر اجتہاد (براہ راست قرآن و سنت سے مسئلہ اخذ کرنا) ان کے لیے امر ممنوع بنا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف مدون فقہ پر انحصار کیا۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ مدون فقہ میں صرف دار الحرب کا باب ہے، اس میں دار الدعوة کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page