Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ فقہ کافی نہیں دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جو فقہ مدون ہوئی اس کے بارہ میں مسلمانوں کا یہ عمومی عقیدہ ہو گیا کہ یہ ایک مکمل فقہ ہے۔ انسانی زندگی سے متعلق قرآن و حدیث کی تمام تعلیمات مفصل اور مکمل طور پر اس میں شامل ہیں۔ یہ عقیدہ اس نظریہ کو حق بجانب ثابت کرتا تھا کہ فقہ کی تدوین کے بعد اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اب صرف اجتہاد مقید (یا مقلدانہ اجتہاد) کا دروازہ مسلمانوں کے لئے کھلا ہوا ہے۔ یہ عقیدہ قدیم زمانہ میں بظاہر درست تھا مگر جب حالات بدلے، خاص طور پر جب روایتی دور ختم ہوا اور جدید سائنسی دور آیا تو یہ عقیدہ مسلمانوں کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوا۔ مسلمان اپنے تصور کے مطابق ، فقہ کو مکمل قانونی نظام سمجھ بیٹھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انہیں اپنے مسائل کے لئے مدون فقہ سے باہر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس بنا پر دور جدید کے مسلمان بہت سی ان قیمتی ہدایات سے محروم ہو گئے جو قرآن و سنت میں تو موجود تھیں مگر مدون فقہ میں ان کو جگہ نہیں ملی تھی۔ چند مثالوں سے اس معاملہ کی وضاحت ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو سیاسی انقلاب آیا اس کے نتیجہ میں ایک نیا سیاسی نظام پیدا ہوا جس کو جمہوریت (ڈیموکریسی) کہا جاتا ہے۔ ہماری موجودہ فقہ اس سے پہلے بادشاہت کے دور میں بنی۔ اس لئے اس میں جدید جمہوریت کا کوئی تصور شامل نہ تھا۔ چنانچہ مدون فقہ کے ڈھانچہ میں سوچنے والے اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں سکے۔ کسی نے اس کو لا دینی نظام قرار دے کر اس کو حرام بتایا۔ کسی نے اس کو صرف ”سرشماری“ سمجھا اور یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا: جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت مسلمانوں کے لئے ایک سیاسی نعمت کی حیثیت رکھتی تھی۔ قدیم بادشاہت کے بر عکس جمہوریت شرکت اقتدار (power sharing) کے اصول پر بنی ہے۔ جمہوری نظام مسلمانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ حسن تدبیر سے ہر ملک میں سیاسی نفوذ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page