Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید امکانات کا استعمال موجودہ زمانہ کے مسلمان عجیب و غریب طور پر ایک استثنائی محرومی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اس محرومی میں شاید کوئی بھی دوسری قوم یا دوسرا گرہ وہ ان کا شریک نہیں۔ وہ ہے۔ دور جدید کے عظیم امکانات کو استعمال کرنے میں ناکام رہنا۔ موجودہ زمانہ میں جن امکانات (opportunities) کا دروازہ انسان کے لئے کھلا، ان میں سے ایک نہایت قیمتی امکان وہ تھا جس کو آزادی (freedom) کہا جاتا ہے۔ فرانس کے انقلابی مفکر روسو نے اپنی کتاب معاہدہ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملہ سے کیا تھا: انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتا ہوں۔ یہ قول دور جدید کا کلمہ بن گیا۔ یہ تصور اتنا بڑھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمہ طور پر یہ مان لیا گیا کہ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ ہر انسان کا یہ ناقابل تنسیخ حق ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھتا ہے اس کو اختیار کرے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ اس مطلق آزادی کو مقید کرنے والی صرف ایک چیز تھی، وہ یہ کہ آدمی اپنی آزادی کے استعمال میں جارح نہ بنے، وہ تشدد کے بجائے پرامن ذرائع سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس کی وضاحت کے لئے دو متعلق قصے کا ذکر مفید ہوگا جو اس معاملہ کو بخوبی طور پر واضح کرتا ہے۔ ۳۰۰ سال پہلے جب امریکہ انگریزوں کے سیاسی غلبہ سے آزاد ہوا تو ایک امریکی شہری خوشی منانے کے لئے ایک سڑک پر نکلا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلاتا ہوا جارہا تھا۔ اس دوران اس کا ایک ہاتھ ایک راہ گیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہ گیر نے غصہ ہو کر کہا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے (What is this nonsense)۔ امریکی شہری نے جواب دیا کہ اب امریکہ آزاد ہے، اب میں جو چاہوں کروں۔ راہ گیر نے نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ بیشک تم آزاد ہو مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے: Your freedom ends where my nose begins.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page