Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ قصہ آزادی کے جدید تصور کو نہایت خوبی کے ساتھ واضح کر رہا ہے۔ جدید دور انسان کو مکمل آزادی دیتا ہے، اس واحد شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے ساتھ تشدد نہ کرے ۔ مہاتما گاندھی جو اپنی مغربی تعلیم کے دوران اس حقیقت کو جان چکے تھے۔ انہوں نے اس کو ہندوستان کی تحریک آزادی میں استعمال کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے ۱۸۵۷ء میں ہندوستان کے مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے یہ تحریک پر تشدد طریق کار کے اصول پر چلائی ۔ ۶۰ سال سے زیادہ لمبی مدت تک خونیں جنگ کرنے کے باوجود یہ تحریک ناکام رہی۔ اس کے بعد ۱۹۱۹ میں مہاتما گاندھی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے طریق کار کو بدل کر آزادی کی اس تحریک کو پر امن جدوجہد کے اصول پر چلایا۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۷ میں ہندوستان آزاد ہو گیا۔ اس فرق کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے مقلدانہ فقہی ذہن کی بنا پر طریق کار کے نام سے صرف ایک ہی طریقہ کو جانتے تھے اور وہ مسلح جہاد ہے۔ مدون فقہ کی تمام کتابیں پر امن جدوجہد (peaceful struggle) کے تصور سے خالی ہیں۔ یہ کتابیں صرف ایک ہی طریقہ کا تعارف کراتی ہیں اور وہ پر تشدد جدوجہد ہے۔ کیوں کہ یہ کتابیں اس دور میں لکھی گئیں جب کہ انسان طاقت کے نام سے صرف تلوار کو جانتا تھا۔ عربی کا ایک قدیم مقولہ ہے : جنگ کو جنگ کا ثانی ہے (الحرب انفی للحرب)۔ ایک فارسی شاعر نے اس قدیم تصور کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے ۔ جو شخص تلوار مارتا ہے اسی کے نام کا سکہ چلتا ہے: ہر کہ شمشیر زند سکہ بنامش خوانند عسکری طرزِ فکر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اس طرح سرایت کئے ہوئے ہے کہ شاید کوئی بھی مسلمان اس سے خالی نہیں۔ مختلف شکلوں میں ہر جگہ اس کو دہرایا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک فلسطینی ترانہ کا ایک شعر یہ ہے کہ آؤ ہم لڑیں ، آؤ ہم لڑیں۔ کیوں کہ لڑائی ہی کامیابی کا راستہ ہے : هلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page