Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

طریق کار کی اہمیت کو جانتے تو وہ اپنے ملکوں کو اب تک اسلامی چمنستان بنا چکے ہوتے۔ جیسا کہ سیکولرزم کا عقیدہ رکھنے والوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ملکوں میں انجام دیا ہے، مثال کے طور پر سنگاپور، وغیرہ۔ تقلیدی نظر اور اجتہادی نظر کا فرق مولانا سید حسین احمد مدنی (وفات ۱۹۵۷ء) نے لکھا ہے کہ ؀ ”تاریخ بتاتی ہے کہ ہند میں جب مسلمان آئے تو عام طور سے اہل ہند بودھ مذہب رکھتے تھے اور چھوت چھات تو در کنار بیاہ شادی تک بخوشی کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر کی، خاندان کے خاندان مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد جب محمود غزنوی کا زمانہ آیا ہے تو ہندوؤں میں مختلف احوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ اور شنکر اچاریہ لوگوں کو بدھ مذہب سے نکال کر برہمنی مذہب کو اختیار کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور پھر برہمنی مذہب سارے ملک میں پھیل جاتا ہے۔ برہمن چونکہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر ان کے مذہب کو مٹارہا ہے۔ اس لئے انہوں نے عوام میں نفرت کا پروپیگنڈہ پھیلایا اور مسلمانوں کو ملیچھ کا خطاب دیا۔ اکبر نے اس تفریقی خیال اور اس عقیدہ کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا۔ اگر اکبر کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضر در بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہو جاتی۔ اور اسلام کے دلدادہ آج ہندستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ اکبر نے (اپنی کم علمی کے باعث) نفس دین اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں، جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بد ظنی ہوئی، اگر چہ بہت سے بد ظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتح عرب کا پیش خیمہ ہے۔ جس روز صلح حدیبیہ تمام کو پہنچی ہے اسی روز انا فتحنا لك فتحاً مبینا کی آیت نازل ہوئی ۔ آپس میں اختلاط کا ہونا، نفرت میں کمی آنا، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معائنہ کرنا، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا، یہی امور تھے جنہوں نے قریش کو کھینچ کھینچ کر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینہ پہنچا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page