تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں فطرت کا ایک ابدی قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: "الصلح خیر" (النساء ۱۲۸)۔ یعنی ٹکراؤ کے طریقہ کے مقابلہ میں مصالحانہ طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ یہ واضح طور پر تشدد کے مقابلہ میں عدم تشدد کی اہمیت کی تعلیم ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ يعطی علی الرفق مالا يعطی علی العنف (صحیح مسلم، کتاب البر) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ متشددانہ طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار زیادہ نتیجہ خیز ہے۔ پر امن طریقہ کار (peaceful method) کے حق میں قرآن وسنت میں اس قسم کی واضح تعلیمات موجود تھیں ۔ مگر دورِ جدید کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر ان کو دریافت نہ کر سکے، وہ تشدد کی چٹان سے بے فائدہ طور پر اپنا سر ٹکراتے رہے اور بطورِ خود یہ سمجھتے رہے کہ وہ قربانی اور شہادت کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ اس مقلدانہ ذہن نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو بے شمار نقصانات پہنچائے اور فائدہ کچھ بھی نہیں دیا۔ مثال کے طور پر فلسطین کے عربوں کو اگر یہ راز معلوم ہوتا تو وہ 19۴۸ کے بعد اپنی تباہ کن مسلح جدوجہد نہ چھیڑتے بلکہ وہ پرامن طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے جدید امکانات سے فائدہ اٹھاتے۔ اس کے بعد فلسطین میں ان کو مزید اضافہ کے ساتھ وہی پر عظمت حیثیت حاصل ہو جاتی جو اسی اصول کو استعمال کر کے یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح کشمیر کے مسلمان اگر اس قیمتی راز سے واقف ہوتے تو وہ کشمیر میں گن کلچر اور بم کلچر نہ چلاتے بلکہ اس کے بجائے وہ پیس کلچر چلاتے۔ وہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے جدید امکانات کو استعمال کرتے۔ اس کے بعد وہ نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندوستان میں ایسی با عظمت حیثیت حاصل کر لیتے جو نام نہاد آزاد کشمیر کے مقابلہ میں ان کے حق میں ۱۰۰ گنا زیادہ بہتر ہوتی۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما جو مختلف مسلم ملکوں میں "لڑ کر اقتدار کی کنجی" چھینے میں مشغول ہیں، اور اپنے ملکوں کو صرف تباہی میں اضافہ کا تحفہ دے رہے ہیں، وہ اگر پر امن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader