Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اس معاملہ کو غلط رنگ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی تاریخ کا سفر اسلام کی موافقت میں جاری ہونے کے بجائے اسلام کے خلاف جاری ہو گیا۔ مولاتا سید حسین احمد مدنی نے اس معاملہ پر جو تبصرہ کیا ہے وہ مجتہدانہ نظر کی ایک واضح مثال ہے۔ وہ اپنی مجتہدانہ بصیرت کی بنا پر اس راز کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ معتدل حالات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اختلاط ہمیشہ اسلام کی اشاعت کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ چھری اور خربوزہ کے درمیان اگر ٹکراؤ ہو تو جیت ہمیشہ چھری کی ہو گی۔ خواہ چھری کو خربوزہ کے اوپر رکھا گیا ہو یا خربوزہ کے نیچے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ چھری نے بظاہر اپنے آپ کو خربوزہ کے رنگ میں رنگ لیا ہو۔ تنقید اور اجتہاد تنقید اور تقلید دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جہاں تقلید ہو گی وہاں تنقید نہیں ہو گی۔ اور جہاں تنقید ہو گی وہاں تقلید نہیں ہو گی۔ اجتہاد کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔ اجتہاد لازمی طور پر تنقید چاہتا ہے۔ جہاں تنقید کا ماحول نہ ہو وہاں کبھی اجتہاد کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ تاہم تنقید کو تنقید ہونا چاہیے نہ کہ تنقیص۔ تنقید علمی اور منطقی تجزیہ کا نام ہے۔ اس کے برعکس تنقیص کا سارا انحصار عیب جوئی اور الزام تراشی پر ہوتا ہے۔ تنقید اگر تنقیص کی صورت اختیار کر لے تو وہ سب وشتم ہو گانہ کہ حقیقی معنوں میں تنقید۔ مثال کے طور پر صلیبی جنگوں کے بعد مسیحی پادریوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کتابیں لکھیں۔ انہوں نے عربوں کی تصویر یہ بنائی کہ وہ ایک وحشی قوم ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ان کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ دوسرے اسلامی خلیفہ عمر فاروق نے جب مصر فتح کیا تو اس وقت وہاں کے شہر اسکندریہ میں ایک بڑا کتب خانہ تھا۔ خلیفۂ اسلام کے حکم سے یہ پورا کتب خانہ جلا دیا گیا۔ اس کی تمام قیمتی کتابیں تباہ ہو گئیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page