Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملہ میں مسیحی پادریوں کے جواب کی ایک صورت یہ تھی کہ یہ کہا جائے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ وہ صلیبی جنگوں میں شکست کا بدلہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے سازش کے تحت کتب خانہ جلانے کی یہ کہانی بنائی ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں تنقید نہیں بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ صرف سب وشتم ہیں۔ اس طرح کی باتیں مسیحی پادریوں کے الزام کا علمی جواب نہیں۔ مگر بعد کو بعض اہل علم نے اس معاملہ کی تحقیق کی اور خالص تاریخی شواہد کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ حضرت عمر فاروق کے حکم سے اسکندریہ کا کتب خانہ جلایا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی فتح کے وقت یہ کتب خانہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عربوں نے ۶۴۲ء میں مصر کو فتح کیا۔ جب کہ اس سے بہت پہلے ۴۸ء میں رومی حاکم جولیوس سیزر کے حکم سے اسکندریہ کے اس کتب خانہ کو تباہ کیا جا چکا تھا۔ جواب کا یہ دوسرا طریقہ علمی تنقید کی مثال ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے فلپ کے ہٹی کی کتاب 'ہسٹری آف دی عربس‘ صفحہ ۱۶۶) تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ذہنی ترقی (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ تنقیدی ماحول کے بغیر ذہنی ترقی کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہمارے لئے جو انتخاب (choice) ہے وہ تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ تنقید کو ختم کرنے کے بعد جو چیز ہمارے حصہ میں آئے گی وہ ذہنی ارتقاء کا خاتمہ ہو گا نہ کہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ۔ اجتہاد کا عمل بحث ومباحثہ (discussion) کے درمیان جاری ہوتا ہے۔ اجتہاد دراصل معلوم سے نامعلوم تک پہنچنے کا دوسرا نام ہے۔ کچھ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ کچھ مسائل ہوتے ہیں جن کا جواب ہمیں درکار ہوتا ہے۔ اب اگر کھلے اظہار خیال کا ماحول ہو تو ہر شخص آزادانہ طور پر اپنی رائے کو بیان کرے گا۔ اب افکار کا ٹکراؤ وجود میں آئے گا۔ اس طرح آزادانہ فکری تبادلہ کے دوران معاملہ کے نئے پہلو سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد تنقیح کا عمل شروع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page