Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانوں کے بارے میں حد درجہ محتاط انسان بن جاتا ہے۔ رزق کے معاملہ میں وہ اپنے کو پوری طرح حلال دائرہ میں محدود رکھتا ہے۔ بے ہودہ کام کرنا اس کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ کسی کو دینا ہو یا کسی سے لینا ہو ہر حال میں وہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔ اس کی زبان کھلتی ہے تو سچائی کے لئے کھلتی ہے نہ کہ بیجا حمایت یا بیجا مخالفت کے لئے۔ اس کا تعلق باللہ اس کے اور خدا کے درمیان ایک خاموش عہد بن جاتا ہے جس کو وہ کبھی نہ توڑے خواہ اس کے لئے اس کو اپنے آپ پر کتنا ہی جبر کرنا پڑے۔ یہ دین کی شاہراہ پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دین کی شاہراہ سے جدا ہونا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ چیزوں میں نئی نئی شاخیں نکال کر ان کی دینی اہمیت ثابت کرے اور ان کی طرف دوڑ نا شروع کر دے۔ مثلا اس کا دل اللہ کی کبریائی کے جذبہ سے سرشار نہ ہو البتہ "کچھ رجال" اور "کچھ شخصیتوں" کے ساتھ والہانہ عقیدت کا اظہار اس کا محبوب مشغلہ بنا ہوا ہو۔ تنہائیوں میں اللہ کے ڈر سے اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے نہ ہوتے ہوں البتہ "لاؤڈ اسپیکر" کی سطح پر وہ خوب اللہ کے نام کی دھوم مچاتا ہو۔ عبادات میں انابت و تضریع پیدا کرنے کا دھیان اس کو نہ ہو البتہ مسائل عبادت میں طرح طرح کی مو شگافیاں پیدا کرنے کا وہ ماہر بنا ہوا ہو۔ وہ اپنے صاحب معاملہ کے ساتھ انصاف نہ کرے البتہ خارجی دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہو البتہ دوسروں کے ظلم و بربریت کا اعلان کرنے میں وہ سب سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہو۔ وہ اپنے پڑوسی کی مدد نہ کرے البتہ دور کے مسائل پر تقریر کرنے سے اس کی زبان کبھی نہ تھکتی ہو۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے خالی ہو البتہ ذکر کے نام پر الفاظ کی تکرار کرنے میں لاکھوں کا عدد بھی اس کے لئے ناکافی ثابت ہو رہا ہو۔ اپنی نماز میں خشوع پیدا کرنے کی اسے فکر نہ ہو البتہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش کا وہ خوب اہتمام کرتا ہو۔ اپنے کمزور دینی بھائی کے حقوق اس کو یاد نہ آئیں البتہ بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرنا وہ کبھی نہ بھولتا ہو۔ اپنے نفس کو خدا کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page