Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک درخت ہو تو وہ صرف ایک درخت ہے اور بہت سے درخت ہوں تو ان کے مجموعہ سے ایک باغ وجود میں آجاتا ہے۔ تاہم اجتماعی چیزیں اقامت دین کا بالواسطہ نتیجہ ہیں نہ کہ اس کا براہ راست نشانہ۔ تفرق فی الدین کا مطلب دین سے الگ ہوتا نہیں ہے بلکہ دین کی شاہراہ سے الگ ہونا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں ارشاد ہوا ہے: ’’کہو، آؤ میں تم کو سناؤں وہ چیزیں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کی ہیں۔ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ یہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ پر جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم کسی شخص پر اس کے تحمل سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے۔ اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ نصیحت پکڑو۔ اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے جدا کر دیں گی۔ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچو۔‘‘ (الانعام ۱۵۲۔ ۱۵۳) اس سے معلوم ہوا کہ دین کی ایک شاہراہ ہے اور اس کے دائیں بائیں بہت سی پگڈنڈیاں نکلتی ہیں۔ مومن وہ ہے جو شاہراہ پر چلے اور ادھر ادھر کی پگڈنڈیوں میں نہ کھو جائے۔ دین کی شاہراہ یہ ہے کہ آدمی صرف ایک خدا سے اپنا تعلق جوڑے، خدا کی خدائی میں کسی اور کو شامل نہ کرے۔۔ یہی توحید ہے۔ یہ توحید جب کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے اندر ایک نیا شعور ابھر آتا ہے۔ وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ اس کا خوفِ خدا اور اس کا اعتماد علی اللہ اس کی زندگی میں اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین اور قیموں اور عام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page