جہاد کا تصور اسلام میں
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں کیا۔ اور جب آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی گئی تو آپ نے ہمیشہ اعراض کی کوئی تدبیر اختیار کر کے جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی۔ آپ صرف اُس وقت جنگ میں شریک ہوئے جب کہ دوسرا کوئی راستہ سرے سے باقی ہی نہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف مدافعانہ جنگ ہے اور وہ بھی صرف اس وقت جب کہ اس سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے ــــ امن جدوجہد، اور پُر تشدد جدوجہد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اور ہر معاملہ میں یہی کیا کہ پُر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پر امن طریق کار کو اختیار فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی اسی اصول کا ایک کامیاب عملی نمونہ ہے۔ یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ ۱۔ پیغمبری ملنے کے بعد فوراً ہی آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مذکورہ دونوں طریقوں میں سے کس طریقہ کو اختیار کریں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر کی حیثیت سے آپ کا مشن یہ تھا کہ شرک کو ختم کریں اور توحید کو قائم فرمائیں۔ مکہ میں کعبہ اللہ اسی توحید کے مرکز کے طور پر بنایا گیا تھا مگر آپ کی بعثت کے وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھ دیے گئے تھے۔ اس لحاظ سے بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ قرآن میں سب سے پہلے اس طرح کی کوئی آیت اترتی کہ : طهر الكعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) اور اس کو دوبارہ مرکز توحید بنا کر اپنے مشن کو آگے بڑھاؤ۔ مگر کام کا یہ آغاز قریش سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا، جن کی قیادت عرب میں اسی لیے قائم تھی کہ وہ کعبہ کے متولی بنے ہوئے تھے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کی عملی تطہیر کے معاملہ سے مکمل طور پر احتراز فرمایا اور اپنے آپ کو صرف توحید کی نظری دعوت تک محدود رکھا۔ یہ گویا پُر تشدد طریق کار کے مقابلہ میں پرامن طریق کار کی پہلی پیغمبرانہ مثال تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader