Urdu book · دین و شریعت

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر امن اصول پر قائم رہتے ہوئے تیرہ سال تک مکہ میں اپنا کام کرتے رہے۔ مگر اس کے باوجود قریش آپ کے دشمن بن گئے۔ یہاں تک کہ ان کے سرداروں نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ سب مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں۔ چنانچہ انہوں نے تلواروں سے مسلح ہو کر آپ کے گھر کو گھیر لیا۔ یہ گویا ر سول اور اصحاب رسول کے لیے جنگ کا کھلا چیلنج تھا۔ مگر آپ نے اللہ کی رہنمائی کے تحت یہ فیصلہ فرمایا کہ جنگی مقابلہ سے اعراض کریں۔ چنانچہ آپ رات کے سناٹے میں مکہ سے نکلے اور خاموشی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مدینہ پہنچ گئے۔ اس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔ ہجرت واضح طور پر پُر تشدد طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ایک مثال ہے۔ ۳۔ غزوہ خندق یا غزوہ احزاب بھی اسی سنت کی ایک مثال ہے۔ اس موقع پر مختلف قبائل کے لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ واضح طور پر آپ کے مخالفین کی طرف سے ایک جنگی چیلنج تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ رات دن کی محنت سے اپنے اور مخالفین کے درمیان ایک لمبی خندق کھود دی۔ اس وقت کے حالات میں یہ خندق گویا ایک حارجہ یا ٹکر روک طریقہ (buffer) تھا۔ چنانچہ قریش کا لشکر خندق کے دوسری طرف کچھ دن ٹھہرار ہا اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔ یہ خندق بھی گویا پر تشدد عمل کے مقابلہ میں پر امن عمل کا انتخاب لینے کی ایک مثال ہے۔ ۴۔ اسی طرح صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کی ایک سنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر یہ صورت تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر مکہ کے سرداروں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور کہا کہ آپ لوگ مدینہ واپس جائیں۔ ہم کسی قیمت پر آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ گویا قریش کی طرف سے آپ کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page