Urdu book · دین و شریعت

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ صحیح ہے کہ پچھلے زمانہ میں بعض اوقات پر تشدد طریقۂ کار کو اختیار کیا گیا مگر اس کی حیثیت زمانی اسباب کی بنا پر صرف ایک مجبورانہ انتخاب کی تھی۔ اب جب کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں یہ مجبوری باقی نہیں رہی تو پر تشدد طریقۂ کار کو اختیار کرنا بھی غیر ضروری اور غیر مسنون قرار پا گیا۔ اب نئے حالات میں صرف پر امن طریقۂ کار کا انتخاب کیا جائے گا۔ جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے، جہاد کے معاملہ میں امن کی حیثیت عموم کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف ایک نادر الوقوع استثناء کی۔ موجودہ زمانہ میں اس معاملہ کی ایک سبق آموز مثال ہندوستانی لیڈر مہاتما گاندھی (وفات ۱۹۴۸ء) کی زندگی میں ملتی ہے۔ اسی زمانی تبدیلی کی بنا پر مہاتما گاندھی کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ہندوستان میں ایک مکمل قسم کی سیاسی لڑائی لڑیں اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں۔ اور یہ سب کچھ شروع سے آخر تک عدم تشدد کا طریقہ (non-violent method) اور پُر امن عمل (peaceful activism) کے اصول کو اختیار کر کے انجام پائے۔ فقہ کا یہ ایک معلوم اصول ہے کہ : تتغیر الأحكام بتغير الزمان والمكان (زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) اس مسلمہ فقہی اصول کا تقاضا ہے کہ جب زمانی حالات بدل چکے ہوں تو شرعی احکام کا از سر نو انطباق (re-application) تلاش کیا جائے، تاکہ شرعی حکم کو زمانی حالات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس فقہی اصول کا تعلق جس طرح دوسرے معاملات سے ہے اسی طرح یقینی طور پر اس کا تعلق جنگ کے معاملہ سے بھی ہے۔ اس اصول کا بھی یہ تقاضا ہے کہ پر تشدد طریقۂ کار کو اب عملاً متروک قرار دیا جائے اور صرف پر امن طریقۂ کار کو شرعی جواز کا درجہ دیا جائے۔ موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد کے نام سے بہت سے ملکوں کے مسلمان مسلح جہاد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ مگر کوئی تحریک محض اس بنا پر جہاد کی تحریک نہیں ہو سکتی کہ اس کے علم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page