Urdu book · دین و شریعت

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر مطلوب اور غیر محمود بن چکا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پر امن طریق کار کو واحد پسندیدہ طریق کار کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں پر امن طریق کار کو ایسی فکری اور عملی تائیدات حاصل ہو گئی ہیں جنہوں نے پر امن طریق کار کو بذات خود ایک انتہائی طاقتور طریق کار کی حیثیت دے دی ہے۔ ان جدید تائیدات میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ مثلاً اظہارِ رائے کی آزادی کا حق، جدید کمیونیکیشن کے ذریعہ اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے امکانات، میڈیا کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا، وغیرہ۔ ان جدید تبدیلیوں نے پر امن طریق کار کو بیک وقت مقبول طریق کار بھی بنادیا ہے اور اسی کے ساتھ زیادہ مؤثر طریق کار بھی۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ جب پر امن طریق کار عملاً دستیاب (available) ہو تو اسلامی جدوجہد میں صرف اسی کو اختیار کیا جائے گا، اور پر تشدد جدوجہد کو ترک کر دیا جائے گا۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پر امن طریق کار نہ صرف مستقل طور پر دستیاب ہے، بلکہ مختلف تائیدی عوامل (supporting factors) کی بنا پر وہ بہت زیادہ مؤثر حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں پر تشدد طریق کار مشکل ہونے کے ساتھ عملاً بالکل غیر مفید ہے، اس کے مقابلہ میں پر امن طریق کار آسان ہونے کے ساتھ انتہائی مؤثر اور نتیجہ خیز ہے۔ اب پر امن طریق کار کی حیثیت دو امکانی انتخابات (possible options) میں سے صرف ایک انتخاب کی نہیں ہے بلکہ وہی واحد ممکن اور نتیجہ خیز انتخاب ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اب پر تشدد طریق کار عملاً متروک قرار پا چکا ہے، یعنی وہی چیز جس کو شرعی زبان میں منسوخ کہا جاتا ہے۔ اب اہل اسلام کے لیے عملی طور پر ایک ہی طریق کار کا انتخاب باقی رہ گیا ہے، اور وہ بلاشبہہ پر امن طریق کار ہے، الا یہ کہ صورت حال میں ایسی تبدیلی پیدا ہو جو دوبارہ حکم کو بدل دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page