اقامت الدین، تفرق فی الدین
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیمات پر۔ اس آیت کا منشا یہ ہے کہ تفصیلی احکام میں توسع اور حالات کی رعایت کا طریقہ اختیار کیا جائے اور مستقل زور اور تاکید صرف متفق علیہ باتوں پر دیا جائے۔ اس طرح ملت کے اندر حقیقی دینی فضا پیدا ہوگی۔ دین کے وہ ذیلی یا تفصیلی امور جن میں زمانہ اور حالات کے اعتبار سے فرق ہوتا رہتا ہے، ان کو اگر مستقل تاکید کی بنیاد بنایا گیا تو ملت کے اندر تفریق وانتشار ظہور میں آئے گا اور دین کے نام پر ایک ایسی فضا پیدا ہوگی جو عملا دین کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ (تفصیل کے لئے: تعبیر کی غلطی، الاسلام) موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی کہ اقامت دین کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ سارے اسلامی قوانین کو بحیثیت ایک مکمل نظام کے جاری و نافذ کیا جائے۔ اب چونکہ مکمل قانون کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی ادارہ تھا، اس تفسیر کے مطابق، اقامت دین کا پہلا کام یہ قرار پایا کہ حکومت وقت سے تصادم کر کے اس سے اقتدار چھینا جائے تاکہ مکمل قانون کو نافذ کیا جاسکے۔ مسلم اقلیت کے ملکوں میں اس قسم کے سیاسی جہاد کے مواقع نہیں تھے اس لئے یہاں یہ تفسیر تقریری اور تحریری مہم تک محدود رہی۔ مسلم اکثریت کے ممالک جہاں مواقع کھلے ہوئے تھے، وہاں اس نے قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف براہ راست اقدام کی صورت اختیار کی۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف حرث و نسل کی ہلاکت اور باہمی فساد وجود میں آیا بلکہ اقامت دین کے نام پر یہ عظیم نقصان ہوا کہ ملت کے اندر دینی اتحاد کی وہ فضا بالکل برباد ہو گئی جو اقامت دین کے حکم کا مقصود اصلی تھا۔ اقامت دین کی تحریک کے یہ برعکس نتائج کافی تھے کہ اس کے علَمبردار اپنے فکر پر نظر ثانی کریں۔ مگر انہوں نے یہ کیا کہ قرآن کی نئی نئی تفسیریں لکھ کر اپنے پیروؤں کے ذہن کو مزید پختہ کرنے کی کوشش کی۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں ایک تفسیر میں شائع شدہ بحث کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ مذکورہ مفسر قرآن کی سورہ شوریٰ کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں: "بعض لوگوں نے دیکھا کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان مشترک ہے اور شریعتیں ان سب کی مختلف رہی ہیں، جیسا کہ اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader