Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

تعالی خود فرماتا ہے : لکل جعلنا منکم شرعة ومنهاجا، اس لئے انہوں نے یہ رائے قائم کر لی کہ لامحالہ اس دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں ہیں بلکہ صرف توحید و آخرت اور کتاب و نبوت کا ماننا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالانا ہے۔ یا حد سے حد اس میں وہ موٹے موٹے اخلاقی اصول شامل ہیں جو سب شریعتوں مشترک رہے ہیں۔ لیکن یہ بڑی سطحی رائے ہے جو محض سرسری نگاہ سے دین کی وحدت اور شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر قائم کر لی گئی ہے اور یہ ایسی خطرناک رائے ہے کہ اگر اس کی اصلاح نہ کر دی جائے تو آگے بڑھ کر بات دین وشریعت کی اس تفریق تک پہنچے گی جس میں مبتلا ہو کر سینٹ پال نے دین بلا شریعت کا نظریہ پیش کیا اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی امت کو خراب کر دیا۔ اس لئے کہ جب شریعت دین سے الگ ایک چیز ہے اور حکم صرف دین کو قائم کرنے کا ہے نہ کہ شریعت کو ، تو لامحالہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح شریعت کو غیر اہم اور اس کی اقامت کو غیر مقصود بالذات سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے اور صرف ایمانیات اور موٹے موٹے اخلاقی اصولوں کو لے کر بیٹھ جائیں گے۔ اس طرح کے قیاسات سے دین کا مفہوم متعین کرنے کے بجائے آخر کیوں نہ ہم خود اللہ کی کتاب سے پوچھ لیں کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم یہاں دیا گیا ہے، آیا اس سے مراد صرف ایمانیات اور چند بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی ہیں یا شرعی احکام بھی “۔ اس کے بعد موصوف نے مختلف آیتیں نقل کر کے دکھایا ہے کہ قرآن میں دین کا لفظ ایمانیات کے علاوہ قوانین و احکام کے لئے بھی آیا ہے۔ اس لئے لازماً تمام احکام کو دین میں شمار ہونا چاہئے اور ان سب کو بروئے کار لانے کا نام اقامتِ دین ہونا چاہئے (۳۸۸۔ ۴۹۰)۔ ۱۔ مذکورہ بالا اقتباس میں ”بعض“ کا لفظ معاملہ کی سنگینی کو گھٹا رہا ہے۔ کیوں کہ یہ رائے صرف ”بعض مفسرین“ کی نہیں ہے بلکہ بلا استثناء تمام قابل ذکر مفسرین کی ہے۔ ۲۔ مذکورہ رائے کو سطحی اور سرسری قرار دینے کے لئے کوئی دلیل نہیں۔ جب حکم کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page