Urdu book · دین و شریعت

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

کر سکتی ہے، غیر حکومتی عوام کو اس قسم کا اعلان کرنے کا حق نہیں۔ اسی لیے فقہ میں یہ مسئلہ ہے کہ: الرحیل للإمام (جنگ کا اعلان کرنا صرف حاکم وقت کا کام ہے)۔ اصل یہ ہے کہ جنگ ایک انتہائی منظم عمل کا نام ہے۔ اس قسم کا منظم عمل صرف با اختیار حکومت ہی کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی اقدام صرف حکومت کے لیے جائز ہے، عوام کے لیے جنگی اقدام کرنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر مسلمان جہاد کے نام پر حکومتوں سے پُر تشدد ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ مگر تقریباً بلا استثناء ان میں سے ہر ایک کی حیثیت فساد کی ہے نہ کہ اسلامی جہاد کی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اُن میں سے کوئی بھی ”جہاد“ کسی حکومت کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں ان میں سے ہر ایک جہاد غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کی طرف سے شروع کیا گیا اور انہی کی طرف سے ان کو چلایا جا رہا ہے۔ اگر ان میں سے کسی جہادی سرگرمی کو بالفرض کسی مسلم حکومت کا تعاون حاصل ہے تو یہ تعاون بلا اعلان صرف خفیہ انداز میں کیا جا رہا ہے، اور شریعت کے مطابق کسی مسلم حکومت کو بھی جہاد کا حق صرف اس وقت ہے جب کہ وہ با قاعدہ طور پر اس کا اعلان کرے (الانفال ۵۸)۔ اعلان کے بغیر کسی مسلم حکومت کے لیے بھی قتال کرنا جائز نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی طرف سے جہاد کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، آج کل کی زبان میں وہ دو قسم کی ہیں۔ یا تو اس کی حیثیت گوریلا وار (guerrilla war) ہے، یا پراکسی وار (proxy war) کی۔ اور یہ دونوں ہی قسم کی جنگیں یقینی طور پر اسلام میں ناجائز ہیں۔ گوریلا وار اس لیے ناجائز ہے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے چلائی جاتی ہے نہ کہ کسی قائم شدہ حکومت کی طرف سے۔ اور پراکسی وار اس لیے ناجائز ہے کہ کوئی حکومت اس کو بلا اعلان جاری کرواتی ہے، اور اعلان کے بغیر جنگ اسلام میں جائز نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page