Urdu book · دین و شریعت

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

خلاصہ بحث اسلامی جہاد ایک مثبت اور مسلسل عمل ہے۔ وہ مومن کی پوری زندگی میں برابر جاری رہتا ہے۔ اس مجاہدانہ عمل کے تین بڑے شعبے ہیں۔ ۱، جہادِ نفس۔ یعنی اپنے منفی جذبات اور اپنے اندر کی نامطلوب خواہشات پر کنٹرول کرنا اور ہر حال میں اللہ کی پسندیدہ زندگی پر جمے رہنا۔ ۲، جہادِ دعوت۔ یعنی اللہ کے پیغام کو تمام بندوں تک پہنچانا اور اس کے لئے یک طرفہ ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ بھر پور کوشش کرنا۔ یہ ایک عظیم کام ہے، اس لئے اس کو قرآن میں جہادِ کبیر کہا گیا ہے۔ ۳، جہادِ اعداء۔ یعنی دینِ حق کے مخالفوں کا سامنا کرنا اور دین کو ہر حال میں محفوظ اور قائم رکھنا۔ یہ جہاد پہلے بھی اصلاً ایک پرامن عمل تھا۔ اور اب بھی وہ اصلاً ایک پرامن عمل ہے۔ اس اعتبار سے جہاد ایک پرامن جدوجہد ہے نہ کہ حقیقۃً کوئی مسلح کارروائی۔ ہو، تو اس کے لئے یہ دعا بہت مفید ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page