Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

گروہ سے وابستہ تھا اور کون اُس رسول کے نام پر بننے والے گروہ سے۔ اسی طرح یہ بھی فیصلہ کی بنیاد نہیں کہ کس کا دین افضل ہے اور کس کا دین غیر افضل۔ یہ سب خدا کے نزدیک غیر متعلق باتیں ہیں۔ خدا ہر ایک کو اس کی ذاتی صفات کے اعتبار سے جانچے گانہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ بگاڑ کا دور حضرت ابو سعید کہتے ہیں۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ضرور اتباع کرو گے ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے، بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کی بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول، کیا وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ آپ نے جواب دیا اور کون (لتتبعن سنن من قبلکم شبرا بشبر وذراعا بذ راع حتی لودخلوا جحر ضب تبعتموہم قیل يارسول الله اليهود والنصاری قال فمن) متفق علیہ، بحوالہ مشکاۃ المصابیح ١٤٧٣/٣۔ یہ حدیث ایک اعتبار سے پیشین گوئی ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ نصیحت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتیں زوال کے جس قانون کی زد میں آئیں، امت مسلمہ اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اس امت کے بعد کی نسلوں میں بھی وہی تمام بگاڑ لازمی طور پر پیدا ہوں گے جو پچھلی امتوں کی بعد کی نسلوں میں پیدا ہوئے۔ یہ بگاڑ کیا ہے۔ وہ بگاڑ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر شعوری ایمان کے بجائے نسلی ایمان پیدا ہو جائے۔ افراد امت میں دینی حساسیت باقی نہ رہے، اس کے بجائے لوگ دینی بے حسی میں جینے لگیں۔ دینی مظاہر تو ان کے درمیان دکھائی دیں مگر ان کے درمیان دینی اسپرٹ کا فقدان ہو چکا ہو۔ ان کا دین قومی دین نہ ہو کہ وہ دین جو خوف خدا کے تحت پیدا ہوتا ہے۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page