آئینۂ ملت
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت کا نام لیتے ہوں مگر ان کی توجہات کا مرکز صرف دنیا کے مفادات بنے ہوئے ہوں۔ وہ عملاً غیر دینی سرگرمیوں میں مشغول ہوں مگر انہوں نے ان غیر دینی سرگرمیوں پر دین کا لیبل لگا رکھا ہو۔ جب امت پر یہ وقت آجائے تو اس وقت اس کی اصلاح نو کی ضمانت یہ ہے کہ اس کے درمیان صحیح قسم کے مصلحین پیدا ہوں، ایسے مصلحین جو از سر نو ان کے اندر صحیح دینی بیداری پیدا کریں۔ وہ ان کی پسندیدہ خوراک دینے کے بجائے انہیں نصیحت کریں۔ وہ ان کے عیوب بتا کر انہیں اپنی اصلاح پر ابھاریں۔ وہ انہیں جھنجوڑیں نہ کہ لوریاں سنا کر ان کو دوبارہ سلا دیں۔ امت مسلمہ اپنے بعد کے زمانے میں یہود و نصاری کی پیروی کرے گی۔ اس سے مراد صرف شکلی تقلید نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ باعتبار شکل انہوں نے بگاڑ کے جو جو کام کئے ہیں ان کو امت مسلمہ کے لوگ بھی اسی طرح دہرائیں گے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی بگڑا مزاج امت مسلمہ کے لوگوں میں بھی پیدا ہو جائے گا اس لئے وہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی سب کام کرنے لگیں گے جو یہود و نصاریٰ نے اپنے دور زوال میں کیا۔ اصل یہ ہے کہ امت کی ابتدائی نسل میں خدا کا دین اپنی اصولی حیثیت میں ہوتا ہے۔ بعد کے زمانے میں وہ اصولی مذہب کے مقام سے گزر کر قومی مذہب کی سطح پر آ جاتا ہے۔ اس کے بعد مختلف قسم کے جو بگاڑ آتے ہیں وہ سب اسی قومی مذہب کے مظاہر ہوتے ہیں۔ اصولی مذہب اصولی کردار پیدا کرتا ہے اور قومی مذہب قومی کردار۔ گروہی صداقت قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ اور یہود نے کہا کہ نصاریٰ کسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader