Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

آیت کے مطابق، خدا کے یہاں انعام کا استحقاق صرف ان افراد کے لئے ہے، جو اللہ اور آخرت پر یقین کا ثبوت دیں اور اپنی زندگیوں میں عملِ صالح کا طریقہ اختیار کریں۔ گویا نجات آخرت کا تعلق اس بات سے ہے کہ کسی فرد نے اپنے آپ کو کیسا بنایا، نہ یہ کہ وہ کس خاص گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔ سنتِ الہیٰ بنی اسرائیل (یہود) کے دورِ زوال کی تاریخ کا ایک واقعہ قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو دریا کے کنارے تھی۔ جب وہ سبت (سنیچر) کے بارے میں تجاوز کرتے تھے۔ جب ان کے سبت کے دن ان کی مچھلیاں پانی کے اوپر آتیں اور جس دن سبت نہ ہو تو نہ آتیں۔ ان کی آزمائش ہم نے اس طرح کی، اس لئے کہ وہ نافرمانی کر رہے تھے۔ (الاعراف ۔ ۱۶۳)۔ اس آیت میں ایک خدائی قانون کو ایک تاریخی مثال کے ذریعہ واضح کیا گیا ہے، وہ قانون یہ ہے کہ کتاب خداوندی کی حامل قوم کو ابتداء آسان حالات میں دین پر عمل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ مگر جب وہ اس کی تعمیل نہ کرے تو حالات میں سختی پیدا کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ آسانی کے بعد مشکل، اور مشکل کے بعد مشکل تر، حتیٰ کہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ دینی تقاضے پر عمل کرنا ہی حالات کے اعتبار سے اس کے لئے ممکن نہ رہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تذکیر القرآن)۔ غور کیجئے تو موجودہ مسلم نسلوں کا معاملہ عالمی سطح پر ایسا ہی ہو رہا ہے۔ دعوت امت محمدی کی لازمی ذمہ داری ہے۔ یعنی خدا کے بندوں تک خدا کا پیغام رحمت پہنچانا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے چونکہ یہ کام انجام نہیں دیا اس لئے ہر اگلے مرحلے میں اسی نسبت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page