Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

نسلی نجات یا گروہی نجات کا تصور قرآن و حدیث میں سراسر اجنبی ہے۔ خدا کی نظر میں تمام انسان یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ گروہ یا نسل جیسی چیزوں سے ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق نہیں ہوتا۔ فرق کا سبب صرف ایک ہے اور وہ حقیقی عمل ہے۔ کوئی شخص اگر اپنے قول و عمل کے اعتبار سے اپنے آپ کو دوسروں سے مختلف ثابت کرے تو وہ خدا کی نظر میں مختلف انسان قرار پائے گا اور اس کا انجام دوسروں سے مختلف ہوگا۔ قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں ارشاد ہوا ہے کہ --- اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔ (الحجرات ۴۹) اس سے معلوم ہوا کہ نسلی یا گروہی یا ملی بنیاد پر لوگوں کے درمیان جو فرق پایا جاتا ہے وہ صرف پہچان کے لئے ہے۔ اس فرق کا کوئی بھی تعلق فلاح و نجات سے نہیں۔ فلاح و نجات کا معاملہ سراسر انفرادی ہے۔ کوئی شخص خواہ کسی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، وہ اگر متقی ہے تو خدا کے یہاں اس کا درجہ ہے، ورنہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح صرف ایک انسان ہے۔ یہ معاملہ ایک اور آیت میں مزید واضح کیا گیا ہے۔ یہ البقرہ کی آیت نمبر ۶۲ ہے۔ اس آیت میں چار معروف مذہبی گروہوں کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کو بھی ان چار مذہبی گروہوں میں سے ایک مذہبی گروہ کی حیثیت دی گئی ہے۔ گویا کہ مذہبی گروہ یا مذہبی ملت ہونے کے اعتبار سے مسلمانوں کا معاملہ کچھ بھی دوسروں سے مختلف نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی بھی گروہ (بشمول مسلمان) محض ایک خاص گروہ ہونے کی حیثیت سے فلاح و نجات کا مستحق نہیں ہو سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page