Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 286

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد کے لوگوں کو بطور وراثت ملتی ہے، وہ ان کے لئے ذاتی دریافت کے ہم معنی نہیں ہوتی۔ جب یہ مرحلہ آتا ہے تو امت کے لوگ ایمانی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اس گراوٹ کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ان کے عمل کا نشانہ بدل جاتا ہے۔ ابتدائی نسلوں میں دین اگر ان کا نشانہ عمل تھا تو بعد کی نسلوں میں دنیا ان کا نشانہ عمل بن جاتی ہے۔ رسمی اور ظاہری اعتبار سے دین اب بھی ان کے یہاں دکھائی دیتا ہے مگر حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے وہ ان کے درمیان موجود نہیں ہوتا۔ اب ان کی عملی زندگی پوری طرح دنیا طلبی کے راستہ پر چل پڑتی ہے۔ مادی ترقی ان کا اصل مقصود بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ظاہری پہلوؤں کو ہٹا کر دیکھا جائے تو ان میں اور دوسری قوموں میں کوئی حقیقی فرق باقی نہیں رہتا۔ اس غیر دینی روش کو ہمہ تن اختیار کرنے کے باوجود وہ اپنی آخرت کی کامیابی کے معاملے میں پوری طرح مطمئن رہتے ہیں۔ اس اطمینان کا راز ان کا یہ خود ساختہ عقیدہ ہو تا ہے کہ ہمارا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے۔ ہم ہر حال میں بخش دیئے جائیں گے: ہمارے پیغمبر اور ہمارے بزرگ ہر حال میں ہم کو آخرت کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس قسم کا عقیدہ سراسر فریب ہے۔ قرآن کے مطابق، وہ کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ اس قسم کا خود ساختہ عقیدہ نہ پچھلی امت کے لوگوں کے لئے کار آمد ہو سکتا ہے اور نہ بعد کی امت کے لوگوں کے لئے۔ اکابر پرستی قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں دور زوال کے اہل کتاب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے احبار اور اپنے رہبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا (التوبہ ۔ ۳۱)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page