Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

اس آیت میں اہل کتاب کی اس گمراہی کی نشاندہی کی گئی ہے کہ انھوں نے اپنے علما اور مشائخ کو رب کا درجہ دے دیا تھا۔ رب بنانے سے کیا مراد ہے۔ اس کی وضاحت ایک روایت سے ہوتی ہے۔ عدی ابن حاتم جو عہد جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ آپ نے مذکورہ آیت انھیں سنائی۔ اس کو سن کر عدی بن حاتم نے کہا کہ اے خدا کے رسول، انھوں نے اپنے احبار و رہبان کی عبادت تو نہیں کی تھی۔ آپ نے جواب دیا ہاں، ان کے احبار اور رہبان نے ان پر حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا تو انھوں نے ان کی پیروی کی یہی ان کی طرف سے ان کی عبادت ہے۔ (تفسیر ابن کثیر - ۳۴۸/۲) دور زوال میں کسی امت میں جو سب سے بڑی کمی پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں اس کا عقیدہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کا عقیدہ معرفت پر مبنی نہ ہو کر تقلید پر قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے افراد غیر محسوس خدا کی بڑائی میں نہیں جیتے بلکہ محسوس خداؤں کی بڑائی میں گم رہتے ہیں۔ یہی وہ دور ہے جب کہ امت اس خرابی میں مبتلا ہو جاتی ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا۔ اس دورِ زوال میں امت اپنے قومی بڑوں کو وہ درجہ دے دیتی ہے جو صرف خدا کے لئے خاص ہے۔ خدا کا مقام یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہے اس کو بلا بحث مان لیا جائے۔ زوال یافتہ امت اپنے قومی بڑوں کے معاملہ میں یہی کرتی ہے۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں بلا بحث ان کو تسلیم کر لیتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مصلح ان قومی بڑوں کی کسی بات پر تنقید کرے تو یہ لوگ اس پر اسی طرح برہم ہو جائیں گے جس طرح خدا کے خلاف بات پر انھیں برہم ہونا چاہیے۔ مومن وہ ہے جو خداوند عالم کی بڑائی میں جئے۔ ایسے انسان کو خدا کے سوا ہر دوسری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page