Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے وہ خواہش اور لمبی آرزو ہے۔ پس خواہش حق سے روکتی ہے اور لمبی آرزو آخرت کو بھلا دیتی ہے (ان اخوف ما اخوف علی امتی الهوی وطول الامل فاما الهویٰ يصد عن الحق واما طول الامل فينسى الاخرة) مشكاة المصابيح ۱۲۳۸/۳۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ان لكل امة فتنة وفتنة امتی المال (مشكاة المصابيح ۳/ ۱۲۴۲) یعنی ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ خواہشوں اور آرزوؤں میں جینا یا مال کا طالب بننا ایسے فتنے ہیں جن میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسی حالت میں کیا وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے ان چیزوں کو اپنی امت کا فتنہ بتایا اور خصوصی طور پر امت کو ان سے آگاہ کیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امت مسلمہ کا زمانہ آخری زمانہ ہے، یعنی وہ زمانہ جب کہ جدید صنعتی انقلاب ظہور میں آیا۔ اس صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں لاکھوں نئی چیزیں وجود میں آئیں ۔ اس طرح موجودہ دنیا انسان کے لئے زیادہ حسین ہو گئی جیسی حسین وہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ آج کا انسان جب اس نئی دنیا کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں آرزوؤں اور تمناؤں کا ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر اس بات کی لامحدود خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرے تاکہ وہ جدید دنیا کی رونقوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے گرد اکٹھا کر سکے۔ اس نئی صورت حال نے آدمی کی خواہشوں اور آرزوؤں کو بے پناہ حد تک بڑھا دیا ہے۔ ان میں سے ہر خواہش یا ہر آرزو اپنی تکمیل کے لئے مال چاہتی ہے اس لئے ہر آدمی بس مال و دولت کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ ہر آدمی بس کمانے والا جانور (حیوانِ کاسب) بن گیا ہے۔ جدید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page