آئینۂ ملت
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
پرکشش سامانوس کی کوئی حد نہیں ، اس لئے مادی دنیا کی طرف انسان کی دوڑ کی بھی کوئی حد نہیں۔ اس نئے دور نے ساری صورت حال کو بدل ڈالا ہے اخلاقی اور روحانی قدروں کی جگہ مادی قدروں کا غلبہ ہے۔ وقت کا بہترین استعمال صرف یہ ہے کہ اس کو دولت کمانے میں لگایا جائے۔ مقصدی زندگی کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اس کی جگہ مکمل طور پر مفاد پرستانہ زندگی نے لے لی ہے۔ انسانی صلاحیتیں بازار کا مال بن گئی ہیں، ہر آدمی تیار رہتا ہے کہ جس دکان پر اس کی زیادہ قیمت لگے وہاں وہ اپنے آپ کو بیچ دے۔ انسانی تعلقات تمام تر دنیوی مفاد کے تابع ہو گئے ہیں۔ دنیوی اہمیت کی چیزیں آرزوؤں اور تمناؤں کا مرکز بن گئی ہیں۔ ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ہر آدمی اتنی زیادہ دولت اکٹھا کرنا چاہتا ہے کہ اس کے بیٹوں اور پوتوں تک کے لئے پر تعیش زندگی یقینی ہو جائے۔ یہ ہے وہ ماحول جس میں آج کا انسان جی رہا ہے۔ امت مسلمہ بھی اپنا سفر طے کرتے ہوئے اسی نئے زمانہ میں پہنچنے والی تھی اس لئے رسول ﷺ نے پیشگی طور پر اپنی امت کو آگاہ فرمایا تا کہ امت جب نئے فتنوں سے بھرے ہوئے اس دور میں پہنچے تو وہ اس کے بارے میں اس حد تک باشعور ہو کہ اپنے آپ کو اس کی آلائشوں سے بچا سکے۔ آج امت مسلمہ اسی طوفانی فتنہ کے دور میں ہے۔ ہر مرد اور عورت، ہر جوان اور بوڑھا اس فتنہ کبریٰ کی زد میں ہے۔ دیہاتوں سے لے کر شہروں تک کوئی بھی اس سے بچا ہوا نہیں۔ مذکورہ حدیث کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہو گا کہ موجودہ زمانہ میں کسی مسلمان کو جانچنے کا یہی سب سے زیادہ کھلا ہوا معیار ہے۔ جو مسلمان اس نئے مادی سیلاب میں ڈوبنے سے اپنے آپ کو بچا لے وہ کامیاب ہوا، اور جو مسلمان اس مادی سیلاب میں غرق ہو جائے وہ ہمیشہ کے لئے ہلاک ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader