آئینۂ ملت
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی لمحہ وہ موجودہ دنیا کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ کسی بھی لمحہ وہ وقت آ جائے گا جب کہ اس کا رشتہ اس کی پسندیدہ چیزوں سے ٹوٹ جائے۔ اس طرح موت کا تصور آدمی کو ان چیزوں سے بے رغبت کر دیتا ہے جن میں پھنس کر وہ بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے موت آدمی کو متنبہ کرتی ہے کہ کسی بھی وقت وہ ایک ایسے بھو نچال کی زد میں آ سکتا ہے جس کو لوٹانے کی طاقت اس کے اندر نہیں۔ یہ احساس اگر کسی کو پوری شدت کے ساتھ ہو جائے تو وہ اس سے اتنا زیادہ ہل جائے گا کہ اس کا جمود ٹوٹ جائے اور اس کے سینہ میں حساسیت کا سوکھا ہوا چشمہ رواں ہو جائے۔ مردہ قلب کو از سر نو زندہ کرنے والی دوسری چیز قرآن کی تلاوت ہے۔ قرآن کیا ہے، وہ خدا کے جلال کا اظہار ہے، وہ قیامت اور آخرت کے زلزلہ خیز واقعات کا بیان ہے، وہ جمود شکن الفاظ میں یہ بتاتا ہے کہ انسان کی کامیابی کس چیز میں ہے اور ناکامی کس چیز میں۔ قرآن ایک خدائی نصیحت نامہ ہے جو اپنے زلزلہ خیز انداز کی بنا پر قلب و دماغ کو ہلا دینے والا ہے۔ اس بنا پر جب کوئی شخص بار بار قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کی شخصیت ہل جاتی ہے۔ قرآن کا پر شکوہ انداز اس کو تڑپا دیتا ہے یہاں تک کہ بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں دوبارہ ربانی کیفیات کا چشمہ اہل پڑے۔ خدا کی عظمتوں کا احساس اس کی آنکھوں سے آنسو کی شکل میں باہر نکلے۔ اس کی بے حس کار حساسیت میں تبدیل ہو جائے۔ قانون فطرت قرآن کی سورہ نمبر ۵۷ میں اہل اسلام کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــ کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader