آئینۂ ملت
Urdu book, p. 306
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، یہاں تک کہ ان کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں، جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے (الاعراف۔۲۰۲-۲۰۱)۔ اب سوال یہ ہے کہ جو مرد یا عورت اپنے اندر قساوت یا بے حسی کی یہ بیماری پائیں وہ اپنی اصلاح کے لئے کیا کریں۔ اور کس طرح اپنے مردہ دل کو دوبارہ وہ دل بنائیں جس کے اندر زندگی اور حساسیت موجود ہو۔ اس سوال کا جواب ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ عن عبد الله بن عمر رضى الله عنه : قال قال رسول الله ﷺ ان هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا اصابه الماء. قيل يا رسول الله وما جلاؤها قال كثرة ذكر الموت وتلاوة القرآن (مشكاة المصابيح الجزء الاول صفحه-٦٦٢) حضرت عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دلوں کو زنگ لگتا ہے جس طرح لوہے کو پانی کے اثر سے زنگ لگتا ہے۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول، اس کی جلا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرنا اور قرآن کی بہت زیادہ تلاوت کرنا۔ حدیث میں آیا ہے کہ موت کی یاد لذتوں کو ڈھادینے والی ہے (مشكاة المصابيح الجزء الاول ص ۵۰۴) انسان کے اندر جب بھی بے حسی آتی ہے تو وہ اس لئے آتی ہے کہ وہ مادی چیزوں میں لذت لینے لگتا ہے۔ وہ وقتی رونقوں میں گم ہو کر زیادہ اعلیٰ اور ابدی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے۔ اس کمزوری کا سب سے زیادہ کار گر علاج موت کی یاد ہے۔ موت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader