آئینۂ ملت
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
نصیحت کے ذریعہ ان کے اندر اصلاحی اسپرٹ پیدا کرنا۔ یہی حقیقت مذکورہ آیت میں زمین کی مثال سے بتائی گئی ہے۔ ایک زمین اگر مردہ ہو جائے یعنی وہ فصل اگانے کے قابل نہ رہے تو ایسی زمین کو دوبارہ زرخیز بنانے کا طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ زمین میں دانا ڈالنے سے پہلے اس کو تیار کیا جائے۔ اس کے اندر سے کنکر پتھر کو نکالا جائے۔ جھاڑ جھنکار کو صاف کیا جائے۔ اس کی کھدائی کی جائے۔ اس میں کھاد ڈالی جائے۔ پانی سے سینچائی کر کے اس کو نرم بنایا جائے۔ اس طرح کے عمل کے بعد جب زمین تیار ہو جائے تو اس میں دانا ڈالا جائے۔ تیاری کے بغیر زمین میں دانا ڈالنا، دانے کو ضائع کرنا ہے۔ لیکن جب تیاری کے بعد زمین میں دانا ڈالا جاتا ہے تو وہ لہلہاتی ہوئی فصل میں بدل جاتا ہے۔ یہی معاملہ زوال یافتہ امت کا بھی ہے۔ ایسی امت کو دوبارہ اٹھانے کا کام اس طرح نہیں ہو سکتا کہ جوش دلا کر اس کو فوری طور پر حرکت میں لانے کی کوشش کی جائے۔ اس کے بجائے صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کے افراد کو تیار کیا جائے۔ ایسی امت میں کام کا آغاز عملی پروگرام سے نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس میں کام کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ پہلے اس کے افراد میں ذہنی انقلاب لانے کی کوشش کی جائے یہاں تک کہ اسلام ان کے لئے از سر نو دریافت (rediscovery) بن جائے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر اسلامی عمل کی شاندار فصل اگائی جاسکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader