Urdu book · دین و شریعت

افتراق امت

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

افتراق امت قرآن میں امت مسلمہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور انہوں نے باہم اختلاف کر لیا، بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آچکے تھے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (آل عمران ۱۰۵) قرآن میں یہ بات تنبیہ کی زبان میں آئی ہے۔ یہی بات حدیث میں پیشین گوئی کی زبان میں کہی گئی ہے۔ یعنی پچھلی امتوں پر زوال کے زمانے میں ان کی جو حالت ہوئی وہی حالت آئندہ خود امت مسلمہ کی ہوگی۔ انحطاط (degeneration) فطرت کا ایک اٹل قانون ہے۔ اس سے مستثنیٰ نہ پچھلی امتیں تھیں اور نہ بعد کی امت اس سے مستثنیٰ رہے گی۔ ایک روایت الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مثلاً ابو داود (کتاب السنۃ) الترمذی (کتاب الایمان) ابن ماجہ (کتاب الفتن) مسند احمد۔ الترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: "لیأتین علی أمتى على بنى اسرائيل حذو النعل بالنعل، حتى إن كان منهم من أتی أمه علانيةً، ليكونن فى أمتى من يصنع ذلك، وإن بنی اسرائیل تفترقت على ثنتين وسبعين ملةً، و ستفرق أُمّتى علی ثلاث و سبعين مِلّةً، كلها فی النار، إلا ملّة واحدة، قالوا: من هي يا رسول الله؟ قال: من كان على ما أنا عليه وأصحابى"(الترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی افتراق هذه الأمة)۔ میری امت کے ساتھ ضرور وہی کچھ ہوگا جو بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا، قدم بقدم۔ حتی کہ اگر ان میں کوئی ایسا ہوگا جس نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ برا فعل کیا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہوگا جو ایسا ہی کرے گا۔ اور بنی اسرائیل بہتر گروہوں میں بٹ گئے۔ اور میری امت تہتر گروہوں میں بٹ جائے گی۔ سب کے سب آگ میں ہوں گے سوا ایک گروہ کے، لوگوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page